ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
امریکی سینیٹ سے منظور شدہ پابندیوں کے بل کے باوجود بھارت روسی تیل کی خریداری کم کرنے کا امکان نہیں۔ دی لنڈسے او گراہم سینکشننگ روس اینڈ ایران ایکٹ 2026، جسے سینیٹ نے جمعہ کو 86-11 ووٹوں سے منظور کیا، روس کے پانچ بڑے تیل خریداروں پر 100 فیصد تک ٹیرف عائد کرنے کی اجازت دے گا۔ ہندو بزنس لائن کے مطابق بھارت اور روس کے تعلقات سرد جنگ سے جڑے ہوئے ہیں اور دفاعی اور توانائی کے تعلقات گہرے ہیں، جنہیں بیرونی دباؤ پر ترک نہیں کیا جا سکتا۔ بھارت نے اس بل کے سینیٹ میں پیشرفت کے دوران بھی اپنی خریداری میں کمی نہیں کی۔
بھارت کی روس سے خام تیل درآمدات جولائی میں 2.8 ملین بیرل یومیہ تک پہنچ گئیں، جو کل درآمدات کا 55 فیصد ہیں، جب امریکی پابندیوں میں استثنیٰ ختم ہوگیا۔ ذرائع کے مطابق بھارت امریکا کے ساتھ دو طرفہ تجارتی معاہدے پر کام کر رہا ہے، اور امریکی صارفین کے لیے بھارتی اشیاء پر زیادہ ٹیرف عائد کرنا اچھا خیال نہیں ہے۔ آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل اور گیس کی ترسیل میں مسلسل رکاوٹیں بھی بھارت کے روسی تیل کی خریداری جاری رکھنے کے عزم کو مضبوط کر سکتی ہیں۔