پاکستان اور روس کا پارلیمانی روابط بڑھانے پر اتفاق

ماسکو(صدائے روس)

روسی فیڈریشن میں پاکستان کے سفیر فیصل نیاز ترمذی نے روسی فیڈریشن کونسل کے اعلیٰ عہدیداروں آندرے دینی سوو اور ولادیمیر چژوف سے ملاقات کی، جس میں پاکستان اور روس کے درمیان باہمی دلچسپی کے امور، پارلیمانی روابط اور دوطرفہ تعاون کو مزید فروغ دینے کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ملاقات میں روسی فیڈریشن کونسل کی کمیٹی برائے بین الاقوامی امور کے فرسٹ ڈپٹی چیئرمین آندرے دینی سوو، کمیٹی برائے دفاع و سلامتی کے فرسٹ ڈپٹی چیئرمین ولادیمیر چژوف اور روسی فیڈریشن کونسل کے اس گروپ کے سربراہ شریک تھے جو اسلامی جمہوریہ پاکستان کے سینیٹ کے ساتھ تعاون کے لیے قائم کیا گیا ہے۔

گفتگو کے دوران دونوں جانب سے اس بات پر زور دیا گیا کہ پاکستان اور روس کے تعلقات مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں اور پارلیمانی سطح پر رابطوں کو وسعت دینا دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ فریقین نے باہمی دلچسپی کے مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا اور پاکستان و روس کے پارلیمانی اداروں کے درمیان رابطوں، وفود کے تبادلوں اور مسلسل مکالمے کو فروغ دینے کی ضرورت پر اتفاق کیا۔

ملاقات میں اس عزم کا بھی اعادہ کیا گیا کہ دونوں ممالک باہمی احترام، تعمیری بات چیت اور پارلیمانی سفارت کاری کے ذریعے اپنے تعلقات کو مزید مستحکم بنائیں گے۔ اس موقع پر کہا گیا کہ پارلیمانی روابط نہ صرف سیاسی و سفارتی سطح پر اعتماد سازی میں مدد دیتے ہیں بلکہ اقتصادی، تعلیمی، ثقافتی اور علاقائی تعاون کے نئے راستے بھی کھولتے ہیں۔

حالیہ مہینوں میں پاکستان اور روس کے درمیان اعلیٰ سطحی رابطوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ روسی وزارتِ خارجہ کے مطابق 26 جون 2026 کو روس کے نائب وزیر خارجہ آندرے رودینکو نے ماسکو میں پاکستان کے سفیر فیصل نیاز ترمذی سے ملاقات کی تھی، جس میں دوطرفہ ایجنڈے کے اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اسی طرح روسی سفارتی بیانات میں پاکستان کے ساتھ تعلقات کو جنوبی ایشیا میں روسی پالیسی کے اہم پہلوؤں میں شمار کیا گیا ہے۔

روسی فیڈریشن کونسل کی سطح پر بھی پاکستان کے ساتھ تعاون کو وسعت دینے پر توجہ دی جا رہی ہے۔ اس سے قبل روسی سینیٹر ولادیمیر چژوف نے کہا تھا کہ روس اور پاکستان کے درمیان تعاون بڑھانے کے لیے وسیع گنجائش موجود ہے اور دونوں ممالک کے تعلقات مسلسل ترقی کی جانب گامزن ہیں۔

مبصرین کے مطابق ماسکو میں ہونے والی یہ ملاقات اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ پاکستان اور روس اب صرف روایتی سفارتی رابطوں تک محدود نہیں رہنا چاہتے بلکہ پارلیمانی، ادارہ جاتی اور عوامی سطح پر تعلقات کو مزید گہرا کرنے کے خواہاں ہیں۔ پاکستان کے سینیٹ اور روسی فیڈریشن کونسل کے درمیان تعاون مستقبل میں قانون سازی کے تجربات، علاقائی سلامتی، بین الاقوامی فورمز اور عوامی نمائندوں کے تبادلوں کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم بن سکتا ہے۔

پاکستان اور روس کے درمیان بڑھتا ہوا پارلیمانی رابطہ دونوں ممالک کے تعلقات میں اعتماد، تسلسل اور عملی تعاون کے نئے باب کی بنیاد بن سکتا ہے۔