پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں بحران، سخت گیر اقدامات سے عوام بے بس

Pakistani Kashmir Pakistani Kashmir

ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)

بین الاقوامی میڈیا رپورٹ کے مطابق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں گزشتہ ایک ماہ سے بنیادی اشیاء اور خوراک کی فراہمی معطل ہے، جس کے باعث علاقے میں شدید بحران پیدا ہو گیا ہے۔ مظاہرین اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں میں کم از کم 15 افراد ہلاک ہو گئے ہیں، جس نے عالمی سطح پر تشویش پیدا کر دی ہے۔ یہ بدامنی نیم خودمختار خطے میں حکومتی اصلاحات کے عوامی مطالبات کے جواب میں پاکستانی ریاست کی جانب سے کیے گئے پرتشدد کریک ڈاؤن کے بعد پیدا ہوئی ہے۔ اس صورتحال نے اسلام آباد کے لیے ایک سیاسی بحران پیدا کر دیا ہے اور بین الاقوامی مذمت کو جنم دیا ہے۔

Pakistani Kashmir

مشترکہ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) نے بجلی اور گندم کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف احتجاج کیا ہے، جبکہ 12 قانون ساز نشستوں کے خاتمے کا مطالبہ بھی کیا ہے جو بھارتی زیر انتظام کشمیر سے آنے والے پناہ گزینوں کے لیے مخصوص ہیں۔ پاکستانی حکومت نے جے اے اے سی کو “دہشت گرد” قرار دے کر اس پر پابندی عائد کر دی ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے پاکستانی فورسز کی جانب سے غیر مسلح شہریوں کے خلاف طاقت کے استعمال کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ان اقدامات کو انسانی حقوق اور جمہوری اختلاف رائے کے لیے خطرناک قرار دیا ہے۔ پاکستانی حکومت کا کہنا ہے کہ مخصوص نشستوں میں کوئی تبدیلی آئینی اصلاحات کے بغیر ممکن نہیں، تاہم تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ انتخابات کے بعد یہ معاملہ مزید کشیدگی کا باعث بنے گا۔