اسلام آباد (صداۓ روس)
پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں کمی کے باوجود روزمرہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں خاطر خواہ کمی دیکھنے میں نہیں آ رہی، جس کے باعث عوامی حلقوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔ معاشی ماہرین کے مطابق پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کا اثر فوری طور پر مارکیٹ میں منتقل نہیں ہوتا۔ اشیائے خور و نوش، سبزیوں، پھلوں اور دیگر ضروری سامان کی قیمتوں میں کئی عوامل کردار ادا کرتے ہیں جن میں ٹرانسپورٹ اخراجات، ذخیرہ اندوزی، طلب و رسد کا فرق، بجلی اور گیس کے نرخ، اور کاروباری لاگت شامل ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ایندھن سستا ہونے سے نقل و حمل کے اخراجات کم ہوتے ہیں، لیکن تاجروں اور سپلائی چین سے وابستہ عناصر اکثر قیمتوں میں کمی کو فوری طور پر صارفین تک منتقل نہیں کرتے۔ اس کے علاوہ حالیہ ہفتوں میں سبزیوں، چکن، دودھ، دہی اور دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ بھی ریکارڈ کیا گیا ہے، جس نے عوام کو پیٹرولیم ریلیف کے باوجود مہنگائی کا احساس برقرار رکھا ہے۔ اقتصادی تجزیہ کاروں کے مطابق مہنگائی میں حقیقی کمی کے لیے صرف پیٹرولیم قیمتوں میں کمی کافی نہیں، بلکہ خوراک، توانائی، ٹیکس نظام اور منڈیوں کی نگرانی سے متعلق جامع پالیسی اقدامات بھی ضروری ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ایندھن کی کم قیمتوں کا فائدہ ٹرانسپورٹ اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں منتقل کیا جائے تو عوام کو زیادہ مؤثر ریلیف مل سکتا ہے۔
دوسری جانب حکومت کا مؤقف ہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں آنے والی کمی کا مکمل فائدہ عوام تک پہنچایا جا رہا ہے اور آنے والے ہفتوں میں اس کے مثبت اثرات دیگر شعبوں میں بھی ظاہر ہونا شروع ہوں گے۔