صدر پوتن کا مغرب کسی بھی خطرے کا فوری جواب دینے کے عزم کا اظہار

Putin Putin

ماسکو (صداۓ روس)

روسی صدر ولادیمیر پوتن نے کہا ہے کہ مغربی ممالک اب کھلے عام روس کے خلاف جنگ کی تیاریوں اور اپنے فوجی بجٹ میں اضافے کی بات کر رہے ہیں، تاہم روس کسی بھی بیرونی یا داخلی خطرے کا فوری اور متناسب جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ فوجی جامعات کے فارغ التحصیل افسران سے خطاب کرتے ہوئے صدر پوتن نے کہا کہ موجودہ عالمی صورتحال غیر مستحکم ہے اور مشرقِ وسطیٰ سمیت دنیا کے مختلف خطوں میں کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق نیٹو اور یورپی یونین کی قیادت مبینہ روسی خطرے کو جواز بنا کر اپنے فوجی اخراجات میں اضافہ کر رہی ہے۔

روسی صدر کا کہنا تھا کہ روسی مسلح افواج یوکرین میں جاری خصوصی فوجی آپریشن کے دوران تمام محاذوں پر پیش قدمی کر رہی ہیں اور روسی فوج ڈونیٹسک کے شہر کونسٹنٹینووکا پر عملی طور پر کنٹرول حاصل کرنے کے قریب پہنچ چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ روسی افسران اور فوجی بہادری اور مؤثر انداز میں اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں، جبکہ فوجی یونٹ اس آپریشن کی کامیابی کا بنیادی عنصر ہیں۔

صدر پوتن نے یوکرین پر روسی شہری تنصیبات کو ڈرون حملوں کا نشانہ بنانے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ان حملوں کا مقصد روسی معاشرے میں بے چینی اور عدم استحکام پیدا کرنا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر کییف مذاکرات کا خواہاں ہے تو پھر ایسے حملے مذاکراتی ماحول کی تشکیل میں کس طرح مددگار ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ روس گزشتہ کئی برسوں سے مذاکرات اور سفارتی حل کی کوشش کرتا رہا، تاہم بعد ازاں اسے ڈونباس کے عوام کے دفاع کے لیے اقدامات کرنا پڑے۔ ان کے بقول روس ان لوگوں کے تحفظ کے لیے کھڑا ہوا جو خود کو روسی دنیا کا حصہ سمجھتے ہیں اور جن کی مادری زبان روسی ہے۔

صدر پوتن نے اس موقع پر روس کی دفاعی صلاحیتوں کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ ملک کی جوہری قوت، بری فوج، فضائیہ اور بحریہ کو مسلسل جدید بنایا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ سال ایک ہزار سے زائد نئے ہتھیاروں اور فوجی سازوسامان کو جنگی حالات میں آزمایا گیا، جن میں جدید ڈرونز، روبوٹک نظام اور جدید ہدفی ٹیکنالوجی شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ روس ایک کثیر القطبی عالمی نظام کا حامی ہے اور تمام ممالک کے لیے مساوی اور ناقابل تقسیم سلامتی کا اصول ضروری سمجھتا ہے۔ صدر پوتن کے مطابق دنیا میں روس کے مفادات کا دفاع صرف روس خود کر سکتا ہے، کیونکہ کوئی دوسرا ملک ان مفادات کو اپنی ترجیح نہیں بناتا۔