ماسکو (صداۓ روس)
روسی صدر ولادیمیر پوتن نے کہا ہے کہ روس مغرب کے اُن “اصولوں” سے متفق نہیں ہے جو ان کے مطابق نوآبادیاتی عزائم پر مبنی ہیں اور دنیا پر مسلط کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔یہ بات 23 جون کو “پرِماکوف ریڈنگز” کے 12ویں بین الاقوامی سائنسی و ماہرین فورم کے شرکاء کے نام اپنے خیرسگالی پیغام میں کہی گئی، جسے صدارتی معاون یوری اوشاکوف نے پڑھ کر سنایا۔ پیغام میں کہا گیا کہ مغربی ممالک ایک “قواعد پر مبنی عالمی نظام” کی بات کرتے ہیں، تاہم درحقیقت یہ نعرہ نوآبادیاتی سوچ کو چھپانے کا ذریعہ ہے۔ پوتن کے مطابق روس سمیت دنیا کے کئی ممالک ایسے “اصولوں” کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں۔ روسی صدر نے اپنے مؤقف میں کہا کہ مغربی نظام میں ریاستوں کی خودمختاری کی خلاف ورزی، اندرونی معاملات میں مداخلت اور ممالک کو اپنی ترجیحات تبدیل کرنے پر مجبور کرنا شامل ہے، جو ناقابل قبول ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ روس ایک ایسے عالمی نظام کی حمایت کرتا ہے جو بین الاقوامی قانون پر مبنی ہو، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے کردار کو تسلیم کرے، اور تمام ممالک کی برابری اور باہمی احترام کو یقینی بنائے، تاکہ ہر ملک اپنے ترقی کے راستے خود منتخب کر سکے۔ پوتن نے سابق روسی وزیرِ خارجہ اور وزیرِاعظم ییوگینی پرماکوف کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہمیشہ عالمی حالات کے غیر جانبدار اور حقیقت پسندانہ تجزیے کے حامی رہے ہیں۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب روس، چین اور دیگر ممالک ایک کثیر قطبی (multipolar) عالمی نظام کے قیام کی بات کر رہے ہیں، جس میں طاقت کا توازن مغربی ممالک کے بجائے مختلف عالمی مراکز کے درمیان تقسیم ہو۔