ماسکو (صداۓ روس)
روسی صدر ولادیمیر پوتن نے کہا ہے کہ مغربی ممالک اب روس کے خلاف جنگ کی تیاریوں کو خفیہ رکھنے کے بجائے کھلے عام اس کا اظہار کر رہے ہیں، جبکہ نیٹو اور یورپی یونین کی قیادت مبینہ ’’روسی خطرے‘‘ کو بنیاد بنا کر اپنے فوجی اخراجات میں مسلسل اضافہ کر رہی ہے۔ کریملن میں فوجی، سکیورٹی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی اعلیٰ تعلیمی اکیڈمیوں کے فارغ التحصیل افسران سے خطاب کرتے ہوئے صدر پوتن نے کہا کہ مغربی ممالک پہلے یوکرین کو مالی اور عسکری امداد فراہم کرنے تک محدود تھے، تاہم اب وہ براہِ راست روس کے خلاف جنگی تیاریوں کی بات کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مغرب ایک مخصوص طرزِ عمل اختیار کرتا ہے، جس کے تحت پہلے روس کے لیے خطرات پیدا کیے جاتے ہیں، پھر روس کو اپنے دفاع کے لیے اقدامات کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے، اور بعد ازاں انہی اقدامات کو جواز بنا کر ماسکو پر مختلف الزامات عائد کیے جاتے ہیں۔ صدر پوتن نے موجودہ صورتحال کا موازنہ دوسری جنگِ عظیم کے ابتدائی دور سے کرتے ہوئے کہا کہ 1941 میں نازی جرمنی کے حملے کے بعد بھی سوویت یونین کو ہی جارح ثابت کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ ان کے بقول آج بھی بعض مغربی طاقتیں اسی طرزِ فکر کو آگے بڑھا رہی ہیں۔
روسی صدر نے کہا کہ نیٹو کے یورپی رکن ممالک اور کینیڈا نے 2025 کے دوران اپنے دفاعی اخراجات میں نمایاں اضافہ کیا ہے اور اس کی وجہ مبینہ روسی خطرے کو قرار دیا جا رہا ہے، حالانکہ روس بارہا واضح کر چکا ہے کہ اس کا نیٹو ممالک پر حملے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ یوکرین کی جانب سے روسی شہروں پر ڈرون حملوں کے حوالے سے صدر پوتن نے کہا کہ ان کارروائیوں کا بنیادی مقصد فوجی اہداف کو نقصان پہنچانا نہیں بلکہ روسی معاشرے میں بے چینی اور عدم استحکام پیدا کرنا ہے۔ ان کے مطابق مغربی ممالک کی جانب سے یوکرین کو بڑی تعداد میں ڈرون اور دیگر عسکری وسائل فراہم کیے جا رہے ہیں تاکہ روسی افواج کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کیے جا سکیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ یورپی ممالک روس کے خلاف اپنی سرزمین سے براہِ راست حملے کرنے سے گریز کرتے ہیں کیونکہ انہیں روسی جوابی کارروائی کا خوف ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یوکرین روس کے اندر گہرائی تک ڈرون حملوں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ گزشتہ ہفتے ماسکو پر ہونے والے ایک بڑے ڈرون حملے میں متعدد عمارتوں اور تنصیبات کو نقصان پہنچا جبکہ کئی افراد زخمی ہوئے تھے۔