ماسکو (صداۓ روس)
روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے قازقستان کو روس کے اہم ترین تجارتی شراکت داروں میں سے ایک قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات مساوات کی بنیاد پر ترقی پا رہے ہیں اور تمام شعبوں میں ہم آہنگی کے ساتھ کام کیا جا رہا ہے۔ صدر پوتن نے قازق صدر قاسم جومارت توکایف کے ساتھ بات چیت کے دوران کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تعاون کے معاہدوں کا ایک بڑا پیکج دستخط کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال دونوں ممالک کے درمیان تجارت 28 ارب ڈالر سے زیادہ رہی تھی جبکہ رواں سال کی پہلی سہ ماہی میں تجارت میں 9 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔
صدر پوتن نے یہ بھی کہا کہ روس اور قازقستان کے درمیان دوستی اور پڑوسی پن کے 7 اصولوں پر مشتمل مشترکہ بیان جمعرات کو اپنایا جائے گا۔ ان اصولوں میں مشترکہ تاریخ، یوریشین انٹیگریشن، سرحد پر تعاون، معاشی شراکت داری، ثقافتی تنوع، نوجوانوں کے تبادلے اور مستقبل کا مشترکہ وژن شامل ہیں۔ دوسری جانب قازق صدر توکایف نے کہا کہ روس فی الوقت قازقستان کی معیشت میں براہ راست سرمایہ کاری کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے جس کی مالیت 29 ارب ڈالر ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت جلد ہی 30 ارب ڈالر تک پہنچ جائے گی۔ توکایف نے مزید بتایا کہ روس اور قازقستان کے درمیان فی الوقت 177 مشترکہ پروجیکٹس جاری ہیں جن میں تقریباً 53 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری شامل ہے۔ دونوں رہنماؤں نے عالمی مسائل پر قریبی تعاون اور ہم آہنگی کا عزم ظاہر کیا۔