ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
سدرن الینوائے یونیورسٹی کاربنڈیل کے سائنسدانوں نے پلاسٹک کی بوتلوں اور زرعی فضلے سے پروٹین اور غذائی اجزاء تیار کرنے کا ایک نیا طریقہ ایجاد کیا ہے، جسے وہ 3D پرنٹر کے ذریعے کوکیز کی شکل دے رہے ہیں۔ اس منصوبے کا مقصد کرہ ارض کے دو بڑے بحرانوں — پلاسٹک کے فضلے کا جمع ہونا اور خوراک کی عدم تحفظ — کا حل تلاش کرنا ہے۔ یونیورسٹی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر لاہیرو جے کوڈی نے امریکن کیمیکل سوسائٹی کو انٹرویو میں بتایا کہ انہوں نے پلاسٹک کے فضلے کو استعمال کرنے کے طریقے تیار کرنے کے لیے کام شروع کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کیوں نہ خوراک تیار کرنے پر توجہ دی جائے، کیونکہ پلاسٹک کاربن ہے اور خوراک بھی کاربن ہے۔
اس عمل میں پلاسٹک اور پودوں کے فضلے کو پانی اور آکسیجن کے ساتھ زیادہ درجہ حرارت اور دباؤ پر توڑا جاتا ہے، جس کے بعد جینیاتی طور پر تبدیل شدہ خمیر ان مرکبات کو کھاتا ہے اور پروٹین، چکنائی اور تیزاب پیدا کرتا ہے۔ اس کے بعد فائبر، نشاستہ اور میٹھا شامل کر کے 3D پرنٹر کے ذریعے کوکیز کی شکل دی جاتی ہے، جنہیں سائنسدانوں نے µBites یا مائیکروبائٹس کا نام دیا ہے۔ یہ ٹیکنالوجی انتہائی ماحول جیسے آرکٹک، صحرا یا مستقبل میں مریخ پر خوراک تیار کرنے کے لیے مفید ثابت ہو سکتی ہے۔