
کانچ کے ٹکڑوں پر زندگی کی تلاش: ماسکو سے اسٹاروبیلسک تک ایک دردناک صحافتی سفر –
قسط – 3:
اشتیاق ہمدانی – ماسکو نامہ
موم بتیاں، پھول اور خاموش تصویریں
ہاسٹل اور تعلیمی عمارتوں کا معائنہ مکمل کرنے کے بعد ہم کالج کے اس حصے کی طرف آئے جہاں متاثرہ طلبہ کی یاد میں ایک عارضی یادگار قائم کی گئی تھی۔
یہ منظر عمارت کے اندر موجود تباہی سے مختلف تھا۔
یہاں ملبے اور ٹوٹے ہوئے شیشوں کی بجائے خاموش سوگ دکھائی دے رہا تھا۔
عمارت کے قریب درجنوں گلدستے رکھے ہوئے تھے۔
مختلف رنگوں کے پھول اس جگہ پر موجود تھے جہاں چند روز قبل ایک المناک واقعہ پیش آیا تھا۔
ان پھولوں کے ساتھ جلتی ہوئی موم بتیاں رکھی گئی تھیں۔
کچھ موم بتیاں مکمل جل چکی تھیں۔
کچھ ابھی روشن تھیں۔
ان کے قریب تعزیتی پیغامات اور تصاویر بھی رکھی گئی تھیں۔
یہ تصویریں ان بچوں اور بچیوں کی تھیں جو اس سانحے میں جان کی بازی ہار گئے تھے۔
کالج کی عمارت کے سامنے موجود یہ خاموش یادگار پورے ماحول کو مزید بوجھل بنا رہی تھی۔
یہاں نہ کوئی شور تھا اور نہ کوئی تقریر۔
صرف خاموشی تھی۔
ایسی خاموشی جو بہت کچھ کہہ رہی تھی۔
ہم میں سے کئی صحافی کچھ دیر کے لیے رک گئے۔
کئی تصاویر بنا رہے تھے۔
کئی ویڈیوز ریکارڈ کر رہے تھے۔
اور کئی صرف خاموش کھڑے ان تصاویر کو دیکھ رہے تھے۔
اسی مقام پر روسی فیڈریشن کی انسانی حقوق کمشنر **یانا لانتراٹووا** نے غیر ملکی صحافیوں سے گفتگو کی۔
ان کے ساتھ کئی ایسے افراد بھی موجود تھے جن کے ہاتھوں میں ان اکیس بچوں اور بچیوں کی تصاویر تھیں جو اس واقعے میں ہلاک ہوئے تھے۔
ان تصویروں کو دیکھتے ہوئے اندازہ ہوتا تھا کہ یہ صرف اعداد و شمار نہیں تھے۔
ہر تصویر کے پیچھے ایک زندگی تھی۔
ایک خاندان تھا۔
ایک مستقبل تھا۔
اور ایک خواب تھا جو ادھورا رہ گیا۔
یانا لانتراٹووا نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اس تاثر کو بھی مسترد کیا جو بعض مغربی میڈیا اداروں میں پیش کیا جا رہا تھا کہ یہ کوئی فوجی یا عسکری مرکز تھا۔
انہوں نے غیر ملکی صحافیوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ آج یہاں موجود صحافیوں نے اپنی آنکھوں سے سب کچھ دیکھا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر یہ کوئی فوجی مرکز ہوتا تو اس کے آثار بھی موجود ہوتے، لیکن صحافیوں نے خود دیکھا کہ یہ ایک تعلیمی ادارہ اور طلبہ کا ہاسٹل تھا۔
ان کے مطابق کمروں میں بچوں کی تصاویر، کتابیں، نوٹس، ذاتی سامان، کھلونے، کپڑے اور روزمرہ استعمال کی اشیاء موجود تھیں، جبکہ فوجی تنصیبات، اسلحہ، فوجی سازوسامان یا فوجی سرگرمیوں سے متعلق کوئی چیز نظر نہیں آئی۔
انہوں نے کہا کہ یہ وہ جگہ تھی جہاں نوجوان تعلیم حاصل کرتے تھے، رہتے تھے اور اپنے مستقبل کے خواب دیکھتے تھے، اور غیر ملکی صحافی خود اس حقیقت کا مشاہدہ کر چکے ہیں۔
گفتگو کے دوران انہوں نے اس سانحے کی انسانی قیمت پر بھی زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ خبروں کو پڑھنا ایک بات ہے، لیکن اس مقام پر کھڑے ہونا جہاں نوجوان زندگیاں ختم ہو گئی ہوں، ایک بالکل مختلف تجربہ ہے۔
ان کے بقول انہوں نے خود غیر ملکی صحافیوں کے چہروں پر تاثرات دیکھے۔
کئی ایسے صحافی جو دنیا کے مختلف جنگی علاقوں اور بحرانوں کی رپورٹنگ کر چکے ہیں، اس تباہ شدہ ہاسٹل کے سامنے آ کر خاموش ہو گئے تھے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہاں آنے والے صحافی اپنے اپنے ممالک میں جا کر وہی بیان کریں گے جو انہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔
اس موقع پر مختلف ممالک کے صحافیوں نے بھی اپنے تاثرات کا اظہار کیا۔
آئرلینڈ کے صحافی چی باؤز نے اس منظر کو صدمہ خیز قرار دیا۔
العربیہ کے نمائندے رائد الاکبر نے کہا کہ تباہ شدہ ہاسٹل خود اپنی کہانی بیان کر رہا ہے اور اسے سمجھنے کے لیے اضافی الفاظ کی ضرورت نہیں۔
چینی میڈیا فینکس ٹی وی کے صحافی لو یوگوانگ نے اسے ایک ہولناک انسانی المیہ قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے خاموش نہ رہنے کی اپیل کی۔
یہ مختلف آراء اور تاثرات اپنی جگہ موجود تھے، لیکن ایک بات مشترک تھی۔
وہ یہ کہ اس جگہ کی فضا ہر آنے والے کو متاثر کر رہی تھی۔
کالج کے سامنے رکھی ہوئی موم بتیاں آہستہ آہستہ جل رہی تھیں۔
پھول خاموشی سے اپنی جگہ موجود تھے۔
اور تصاویر میں مسکراتے ہوئے چہرے اس حقیقت کی یاد دلا رہے تھے کہ چند روز پہلے تک یہاں زندگی تھی۔
خواب تھے۔
منصوبے تھے۔
اور ایک مستقبل تھا۔
اسی یادگار کے سامنے کھڑے ہوئے مجھے پہلی بار شدت سے احساس ہوا کہ بعض اوقات کسی سانحے کی سب سے طاقتور گواہی ملبہ نہیں ہوتا۔
بلکہ وہ تصویریں ہوتی ہیں جو خاموشی سے دیوار کے ساتھ رکھی ہوتی ہیں۔
اور وہ موم بتیاں جو یہ بتاتی ہیں کہ کوئی کسی کو ابھی تک بھلا نہیں پایا۔