ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
ایران نے تصدیق کی ہے کہ جنوبی افریقہ کے جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دی جائے گی۔ یہ فیصلہ خلیج میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان جنوبی افریقہ کی توانائی سلامتی کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔ ایرانی سفارت خانے نے جنوبی افریقہ میں جاری پیغام میں کہا کہ تنگ آبی گزرگاہ، جہاں عالمی تیل کی ایک بڑی مقدار گزرتی ہے، اب تنازع کا مرکزی نقطہ بن چکی ہے۔ جنوبی افریقہ کی وزارت بین الاقوامی تعلقات اور تعاون (ڈیرکو) نے کہا ہے کہ وہ صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ وزیر رونالڈ لامولا نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے تفصیلی گفتگو کی۔ لامولا نے کہا، “میں نے خطے میں شہری جانی نقصان اور انسانی بحران کی شدت پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ ہم نے فوری طور پر کشیدگی کم کرنے اور بین الاقوامی قانون کے مطابق امن، انصاف اور پائیدار حل کے لیے سفارتی راستہ اپنانے کی اپیل کی ہے۔”
سیاسی تجزیہ کار سییا نتومبیلا نے کہا کہ جنوبی افریقہ اور ایران کے درمیان اسٹریٹجک تعلقات فائدہ مند ہیں۔ انہوں نے کہا، “ہم نے اسرائیل پر غزہ میں نسل کشی کا الزام لگا کر انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس میں کیس کیا ہے، جو ایران کے موقف سے مطابقت رکھتا ہے۔ اس لیے ہمیں فری پاس مل رہا ہے۔” دوسری جانب تجزیہ کار اندرے ڈووینہاگ کا کہنا ہے کہ یہ اقدام جنوبی افریقہ کو امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ تنازع میں ڈال سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی افریقہ کا زیادہ تر تیل مشرق وسطیٰ سے نہیں بلکہ انگولا اور نائیجیریا سے آتا ہے۔