ماسکو (صداۓ روس)
روسی صدارتی ترجمان دیمتری پیسکوف نے پیر کو کہا ہے کہ یورپ بھر میں پھیلتی بدامنی درحقیقت افراتفری کے قریب پہنچ چکی ہے، تاہم یہ یورپی یونین کے رکن ممالک کا اندرونی معاملہ ہے۔ نیوز بریفنگ میں انہوں نے کہا کہ یہ ایسی بدامنی ہے جو عملاً افراتفری کی سرحد پر ہے، اور جیسا کہ دیکھا جا سکتا ہے، فرانس کے بڑے شہروں میں بھڑکنے کے بعد یہ اٹلی اور دیگر یورپی ممالک تک پھیل چکی ہے۔ ان کے بقول یہ واضح طور پر بحران کا اظہار ہے، لیکن یہ ان ممالک کا اندرونی معاملہ ہے۔
پیسکوف نے یہ بھی کہا کہ یہ کہنا مشکل ہے کہ آیا یہ بحران نظامی ہے یا نہیں، مگر یہ واضح ہے کہ یہ ایک بڑا بحران ہے۔ رپورٹس کے مطابق یورپ کے درجنوں شہروں میں لاکھوں افراد سڑکوں پر نکل چکے ہیں۔ مظاہروں کا آغاز گزشتہ ماہ فرانس میں ہوا اور اس کے بعد یہ چھ ممالک تک پھیل چکے ہیں۔ فرانس میں مہنگائی اور سرکاری خدمات اہم محرکات ہیں، جبکہ پیرس اور لِل کے بعض حصوں میں کرفیو کا اعلان کیا گیا ہے۔ فرانس میں طلبہ کی جانب سے سرکاری تعلیم کے وسائل کی کمی پر مطالبات ابتدا میں احتجاج کا سبب بنے، جن کی یونینوں اور دیگر گروہوں نے بھی حمایت کی۔ یہ تحریک اٹلی، بیلجیم، اسپین، پرتگال اور البانیہ تک پہنچ چکی ہے۔ اٹلی، پرتگال اور بیلجیم کی حکومتوں نے بڑھتے تشدد کی مذمت کی ہے اور کوئی رعایت نہیں دی۔ پیسکوف نے ایک اور بیان میں یورپی بدامنی میں روس کے ملوث ہونے کے الزامات کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اب انہیں خود یورپ میں بھی سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا۔