ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
ایرانی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز اس وقت تک نہیں کھلے گی جب تک ایران کی شرائط پوری نہیں ہو جاتیں۔ اپنے پیغام میں انہوں نے واضح کیا کہ مغربی ایشیا میں امریکی آرڈر تباہ ہو چکا ہے اور اب علاقائی ممالک کو خطے کا نیا آرڈر خود تشکیل دینا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ایران طاقت اور دانشمندی، دونوں محاذوں پر بیک وقت جنگ اور مذاکرات کے آپشن کو بروئے کار لائے گا۔ ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے بتایا کہ ایران نے جنگ ختم کرنے کے لیے اپنی شرائط امریکہ کو پہنچا دی ہیں اور اب صدر ٹرمپ کے جواب کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں قطری اور پاکستانی ثالثوں سے مسلسل مشاورت جاری ہے۔ ان کے مطابق قطری ثالثوں کے ذریعے امریکہ کو پیش کی گئی شرائط میں تمام محاذوں پر جنگ کا خاتمہ، ایرانی ناکہ بندی کا خاتمہ اور منجمد اثاثوں کا اجرا شامل ہیں۔
محسن رضائی نے سعودی عرب اور یمنی حوثیوں کے مابین جاری تنازع کے خاتمے کی خواہش کا بھی اظہار کیا اور کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ حوثی بھی سعودی عرب کے ساتھ معاہدہ کرنا چاہتے ہیں۔ آبنائے ہرمز کا معاملہ خطے میں کشیدگی کا مرکزی نکتہ بنا ہوا ہے، جہاں سے عالمی تیل کی ایک بڑی مقدار گزرتی ہے، اور اس آبی گزرگاہ سے متعلق ایران اور امریکہ کے مؤقف میں پہلے بھی متعدد بار اختلاف سامنے آ چکا ہے۔