ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے 28 فروری کو ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر شروع کی گئی جنگ میں اب تک ایرانی عوام بغاوت نہیں کر سکے۔ ایک رہنما کی جگہ دوسرا رہنما آ گیا ہے۔ ایرانی میزائل اور ڈرون مشرق وسطیٰ بھر میں اپنے اہداف کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ ایران نے آبنائے ہرمز بند کر دی ہے جس سے عالمی سطح پر تیل اور گیس کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی “غیر مشروط ہتھیار ڈالنے” کی مطالبے کے برعکس تہران نے امریکہ کی 15 نکاتی جنگ بندی کی تجویز کو مسترد کر دیا ہے۔ امریکہ کی “Forever Wars” پر تحقیق کرنے والے ایک سکالر کے مطابق، ٹرمپ بھی اپنے پیشرو امریکی صدر کی طرح “Asymmetric Resolve” کے جال میں پھنس گئے ہیں۔ اس جال کا مطلب یہ ہے کہ ایک طاقتور ملک جو جنگ جاری رکھنے کے لیے کم پُرعزم ہو، ایک کمزور لیکن انتہائی پُرعزم ملک کے خلاف جنگ شروع کر دے تو اس کی فتح مشکل ہو جاتی ہے۔
ایران کے معاملے میں اسلامی جمہوریہ کی حکومت کی بقا داؤ پر ہے، اس لیے تہران کے پاس امریکہ سے کہیں زیادہ جنگ جاری رکھنے کی ترغیب اور موثر جوابی تدابیر موجود ہیں۔
اس سے پہلے ویتنام جنگ، افغانستان میں امریکی اور سوویت جنگ سمیت تاریخ کے متعدد واقعات اسی asymmetric resolve کی مثال ہیں جہاں کمزور فریق کی زیادہ عزم کی وجہ سے طاقتور فریق کو شکست یا ذلت کا سامنا کرنا پڑا۔