امریکا نے ایران کے سمندری راستوں کی ناکہ بندی شروع کردی

Strait of Hormuz Strait of Hormuz

ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)

امریکا نے ایران کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے اس کے سمندری راستوں کی ناکہ بندی کا آغاز کر دیا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق یہ اقدام ایرانی بندرگاہوں میں داخل ہونے اور وہاں سے نکلنے والے جہازوں کی نگرانی اور کنٹرول کے لیے اٹھایا گیا ہے۔ United States Central Command (سینٹ کام) کے مطابق خلیج عرب اور خلیج عمان میں ایرانی بندرگاہوں سے آنے جانے والے تمام جہاز اس ناکہ بندی کے دائرہ کار میں آئیں گے۔ امریکی فوج نے واضح کیا ہے کہ بغیر اجازت کسی بھی جہاز کو داخل ہونے یا نکلنے کی کوشش پر روکا، اس کا رخ موڑا یا اسے تحویل میں لیا جا سکتا ہے۔ رپورٹس کے مطابق اس ناکہ بندی کا اطلاق عارضی طور پر ایرانی پورٹس کی آمد و رفت پر کیا جا رہا ہے، تاہم اس کے دائرہ کار کو مزید وسعت دی جا سکتی ہے۔ اس اقدام سے خطے میں کشیدگی میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

اس سے قبل امریکی صدر Donald Trump کے اعلان کے بعد سینٹ کام نے Strait of Hormuz میں ناکہ بندی کے آغاز کا وقت بھی جاری کیا تھا۔ امریکی میڈیا کے مطابق پاکستانی وقت کے مطابق شام 7 بجے سے اس پر عمل درآمد شروع ہوا۔ ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے ایک انتہائی اہم گزرگاہ ہے، اور اس میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی منڈیوں پر فوری اثر ڈال سکتی ہے۔