امریکہ ایران کے خارگ آئی لینڈ پر قبضہ کر کے تیل لے سکتا ہے، ٹرمپ

Trump Trump

ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران کے اہم تیل برآمداتی مرکز خارگ آئی لینڈ پر امریکی فورسز کے قبضے کے امکان کو خارج نہیں کر رہے تاکہ اسلامی جمہوریہ ایران کی تیل برآمدات پر کنٹرول حاصل کیا جا سکے۔ فنانشل ٹائمز سے اتوار کو دیے گئے انٹرویو میں ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ واشنگٹن کی ترجیح تهران کی تیل کی صنعت اور برآمدات پر غیر معینہ مدت تک کنٹرول حاصل کرنا ہے، جیسا کہ جنوری میں فوجی چھاپے کے بعد وینزویلا میں کیا گیا۔ انہوں نے کہا، “ایمانداری سے کہوں تو ایران کا تیل لینا میری پسندیدہ چیز ہے، لیکن امریکہ میں کچھ احمق لوگ کہتے ہیں: ‘تم یہ کیوں کر رہے ہو؟’ لیکن وہ احمق لوگ ہیں۔” ٹرمپ نے مزید کہا، “ہوسکتا ہے ہم خارگ آئی لینڈ لیں، یا نہ لیں۔ ہمارے پاس بہت سے آپشنز ہیں۔” انہوں نے نوٹ کیا کہ اس طرح کی کارروائی کا مطلب یہ بھی ہوگا کہ امریکی فورسز کو “وہاں کچھ عرصہ کے لیے رہنا پڑے گا”۔ امریکی محکمہ جنگ نے خطے میں فورسز جمع کرنا شروع کر دی ہیں جس سے ممکنہ زمینی آپریشن کی قیاس آرائیوں کو ہوا مل رہی ہے۔ تہران کے حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی فورسز امریکی فوجیوں کا “انتظار” کر رہی ہیں اور انہیں “قریب آنے” کی دعوت دی ہے۔ انہوں نے امریکہ پر الزام لگایا کہ وہ مذاکرات کی بات کرتے ہوئے خفیہ طور پر حملے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔

ایران نے خارگ آئی لینڈ کے دفاع کو مضبوط کرتے ہوئے وہاں بارودی سرنگیں، مین پورٹیبل ایئر ڈیفنس سسٹم اور ایف پی وی ڈرون یونٹس بھی تعینات کر دیے ہیں۔ تاہم ٹرمپ نے تهران کی جانب سے شدید مزاحمت کی امکان کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے خارگ کے بارے میں کہا، “مجھے نہیں لگتا کہ ان کے پاس کوئی دفاع ہے۔ ہم اسے بہت آسانی سے لے سکتے ہیں۔” وینزویلا پر امریکی فوجی چھاپے کے بعد جس میں صدر نکولس مادورو کو اغوا کر لیا گیا اور کیاراکاس میں ایک دوستانہ حکومت قائم کر دی گئی، ٹرمپ نے ملک کی تیل کی صنعت پر “غیر معینہ مدت تک” کنٹرول رکھنے کا عزم ظاہر کیا تھا۔ واشنگٹن نے وینزویلا کی خام تیل برآمدات پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے جس کی آمدنی براہ راست وینزویلا کی حکومت کو نہیں بلکہ امریکی ٹریژری کے محدود اکاؤنٹس میں جمع کی جا رہی ہے۔ ملک کی عبوری صدر دلسی روڈریگز نے بھی تقریباً 100 ملین ڈالر مالیت کا جسمانی سونا امریکہ کو فروخت کرنے پر اتفاق کیا ہے جس کی آمدنی بھی واشنگٹن کے کنٹرول میں ہے۔