ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
عالمی سطح پر ایندھن کی سپلائی میں خلل اور مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث امریکہ میں ڈیزل کی قیمتیں اپنی اب تک کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔ امریکن آٹوموبائل ایسوسی ایشن (اے اے اے) کے مطابق پیر کے روز ملک بھر میں ڈیزل کی اوسط قیمت 6.5107 ڈالر فی گیلن (1.72 ڈالر فی لیٹر) تک جا پہنچی، جو ایک ہفتہ قبل 6.23 ڈالر اور ایک ماہ قبل 5.58 ڈالر تھی۔ ڈیزل کی موجودہ قیمت ایک سال پہلے کے مقابلے میں تقریباً 76 فیصد زیادہ ہے۔ عالمی سطح پر ڈیزل کی قلت امریکہ-ایران جنگ اور آبنائے ہرمز کے ذریعے توانائی کی ترسیل میں خلل کے باعث مزید سنگین ہو گئی ہے۔ یمن کے بحیرہ احمر کے ساحل پر حوثیوں کی پیش قدمی نے بھی غیر یقینی صورتحال میں اضافہ کیا ہے، جس سے آبنائے باب المندب سے جہاز رانی اور سعودی تیل کی برآمدات سے متعلق خدشات بڑھ گئے ہیں۔
سپلائی کے خدشات اس وقت مزید بڑھ گئے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے حوالے سے اپنے اگلے اقدامات پر غور کر رہے ہیں۔ ہفتے کے آخر میں انہوں نے کہا کہ وہ عسکری کارروائی سے لے کر معاشی دباؤ یا معاہدے تک کے آپشنز پر غور کر رہے ہیں، جبکہ نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے دوران ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات کے امکان پر بھی آمادگی ظاہر کی۔ ایران کے اسلامی انقلابی گارڈز کور نے خبردار کیا ہے کہ کوئی نیا امریکی حملہ تہران کو نئے ہتھیار استعمال کرنے اور تنازع کے جغرافیائی دائرہ کار کو وسیع کرنے پر مجبور کرے گا۔
ٹرمپ نے یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی پر بھی زور دیا ہے کہ وہ روسی ریفائنریوں پر حملے روکیں، ان کا مؤقف ہے کہ یہ حملے عالمی ڈیزل قلت کو مزید بگاڑ رہے ہیں۔ پیر کے روز انہوں نے دوبارہ روسی ریفائننگ صلاحیت کو پہنچنے والے نقصان کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ کئی تنصیبات کام کرنا بند کر چکی ہیں۔ اسی دوران واشنگٹن نے ماسکو پر پابندیاں مزید سخت کر دی ہیں۔ ٹرمپ نے جمعہ کو ایک قانون پر دستخط کیے جو روس کے توانائی اور دفاعی شعبوں کے ساتھ ساتھ تیل کی ترسیل کے نیٹ ورک کو بھی نشانہ بناتا ہے، اور روسی تیل و گیس کے بڑے خریداروں پر 100 فیصد تک ٹیرف کی اجازت دیتا ہے۔ ڈیزل امریکی معیشت کے لیے انتہائی اہم ہے کیونکہ یہ ملک کی بیشتر باربرداری کی نقل و حمل اور زرعی مشینری چلاتا ہے۔ اس لیے قیمتوں میں اضافہ اشیا کی ترسیل اور پیداواری لاگت پر اثرانداز ہو سکتا ہے، جو مہنگائی کے دباؤ میں مزید اضافہ کرے گا۔ یہ اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی فیڈرل ریزرو مسلسل مہنگائی سے نمٹنے کی کوشش کر رہا ہے۔ گزشتہ ہفتے فیڈرل ریزرو نے اپنی بنیادی شرح سود میں 25 بیسس پوائنٹس کا اضافہ کرتے ہوئے اسے 3.75 سے 4 فیصد تک پہنچا دیا، جو 2023 کے بعد پہلا اضافہ ہے۔ فیڈرل ریزرو کے چیئرمین کیون وارش نے کہا کہ امریکہ میں مہنگائی اب بھی بہت زیادہ ہے اور یہ کافی عرصے سے برقرار ہے۔