ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
مصنوعی ذہانت کی امریکی کمپنی اینتھروپک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاریو امودی نے کہا ہے کہ ایران میں ایک گرلز ایلیمنٹری اسکول پر امریکی حملے میں مصنوعی ذہانت کے مبینہ استعمال نے کمپنی کی مقررہ “ریڈ لائنز” کی خلاف ورزی نہیں کی۔ غیر ملکی میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ڈاریو امودی سے فروری میں ایران کے شہر میناب میں ہونے والے امریکی حملے کے بارے میں سوال کیا گیا، جس میں بڑی تعداد میں شہری ہلاکتوں کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔ رپورٹس کے مطابق ہدف کے تعین میں پالانٹیر کے تجزیاتی اور نگرانی کے سافٹ ویئر کا استعمال کیا گیا تھا، جس میں اینتھروپک کے “کلاڈ” اے آئی ماڈل کو بھی شامل کیا گیا تھا۔
امودی نے کہا کہ کمپنی کو یہ مکمل طور پر معلوم نہیں کہ اس واقعے میں مصنوعی ذہانت کو کس حد تک اور کس انداز میں استعمال کیا گیا، تاہم ان کے بقول ایسا استعمال کمپنی کی ان پالیسیوں کے خلاف نہیں تھا جنہیں وہ اپنی “ریڈ لائنز” قرار دیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اینتھروپک مکمل طور پر خودکار ہتھیاروں اور ایسے نظاموں کی مخالف ہے جن میں انسانی نگرانی یا فیصلہ سازی شامل نہ ہو۔ ان کے مطابق جنگی یا حساس نوعیت کے فیصلوں میں آخری فیصلہ انسان ہی کرتا ہے، مصنوعی ذہانت نہیں۔
دوسری جانب امریکی فوج اس بات کا اعتراف کر چکی ہے کہ وہ جدید مصنوعی ذہانت اور ڈیٹا تجزیاتی نظاموں کو مختلف عسکری مقاصد کے لیے استعمال کر رہی ہے۔ حالیہ برسوں میں امریکی محکمہ دفاع نے کئی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے ساتھ دفاعی شعبے میں اے آئی کے استعمال کے معاہدے بھی کیے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جنگی کارروائیوں میں مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال نے اخلاقی اور قانونی سوالات کو جنم دیا ہے، خصوصاً ایسے معاملات میں جہاں شہری آبادی اور تعلیمی ادارے متاثر ہوں۔ ناقدین کے مطابق جدید ٹیکنالوجی کے باوجود غلط معلومات یا پرانے ڈیٹا کی بنیاد پر کیے گئے فیصلے سنگین انسانی نقصانات کا سبب بن سکتے ہیں۔