ماسکو (صداۓ روس)
بیلاروس کے صدر الیگزینڈر لوکاشینکو نے دعویٰ کیا ہے کہ 2022 میں روسی افواج کو کیف کے نواحی علاقوں سے واپس بلانے کے فیصلے کے دوران صدر پوتن کو ایسے عناصر نے گمراہ کیا جو خود کو یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی کے نمائندے ظاہر کر رہے تھے۔ عرب نشریاتی ادارے کو دیے گئے ایک انٹرویو میں لوکاشینکو نے کہا کہ جنگ کے ابتدائی مرحلے میں روسی افواج کیف کے قریب پہنچ چکی تھیں اور اس وقت دنیا بھر میں یہ تاثر پایا جاتا تھا کہ تنازع جلد روسی کامیابی پر ختم ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق اسی دوران بعض سیاسی قوتوں اور شخصیات نے صدر پوتن سے فوجی پیش قدمی روکنے، کیف کے اطراف سے افواج واپس بلانے اور امن معاہدے کی جانب بڑھنے کی اپیل کی۔
لوکاشینکو کا کہنا تھا کہ روس نے اس وقت امن کے ایک ممکنہ موقع کو مدنظر رکھتے ہوئے مذاکراتی عمل کو موقع دیا، تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ یہ توقعات پوری نہ ہو سکیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض بین الاقوامی حلقوں نے روسی قیادت کو یقین دلایا تھا کہ یوکرین امن معاہدے پر آمادہ ہے، لیکن بعد میں صورتحال مختلف رخ اختیار کر گئی۔
بیلاروسی صدر نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ بعض بیرونی قوتوں نے مذاکراتی عمل میں کردار ادا کیا اور روس کو یہ تاثر دیا گیا کہ جنگ بندی اور سیاسی حل ممکن ہے۔ تاہم انہوں نے اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
لوکاشینکو کے مطابق مارچ 2022 میں استنبول میں روس اور یوکرین کے درمیان متعدد مذاکراتی دور ہوئے تھے، جن میں مختلف تجاویز پر غور کیا گیا۔ روسی مؤقف یہ رہا ہے کہ ابتدائی مذاکرات میں پیش رفت ہوئی تھی، لیکن بعد میں یہ عمل رک گیا۔ دوسری جانب یوکرین نے روسی مؤقف سے اختلاف کیا ہے اور مذاکرات کی ناکامی کے حوالے سے مختلف موقف اختیار کیا ہے۔ بیلاروسی صدر کے بیان نے ایک بار پھر 2022 کے امن مذاکرات، کیف سے روسی افواج کے انخلا اور جنگ کے ابتدائی مراحل میں ہونے والے سفارتی رابطوں کے بارے میں بحث کو تازہ کر دیا ہے۔