مغرب روس کو یوکرین پر ‘الٹی میٹم’ دے رہا ہے، روسی وزیر خارجہ

Sergey Lavrov Sergey Lavrov

ماسکو (صداۓ روس)

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا ہے کہ مغرب یوکرین تنازع پر روس کو جنگ بندی اور مذاکرات کے لیے ایک الٹی میٹم دینے کی کوشش کر رہا ہے۔ تاس نیوز ایجنسی کو دیے گئے انٹرویو میں لاوروف نے کہا کہ مغرب چاہتا ہے کہ روس اور یوکرین پہلے جنگ بندی پر راضی ہوں، اس کے بعد فرانس اور برطانیہ کی قیادت میں ایک کثیر القومی فوج تعینات کی جائے اور پھر اصل مذاکرات شروع ہوں۔

لاوروف کے مطابق اس منظرنامے کا مقصد کیف میں ‘نازی حکومت’ کو برقرار رکھتے ہوئے تنازع کو منجمد کرنا ہے، جبکہ مغرب ان سابق یوکرینی علاقوں کو تسلیم کرنے سے انکار کرتا ہے جنہوں نے ریفرنڈم میں روس میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا۔

روسی وزیر خارجہ نے کہا کہ روس ان شرائط کو قبول نہیں کرے گا اور بیرونی دباؤ کے باوجود اپنے اصولوں کو ترک نہیں کیا ہے۔ ماسکو نے فوری جنگ بندی کی تجاویز کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے کیف کو مغربی فوجی امداد کے ساتھ دوبارہ منظم ہونے کا موقع ملے گا۔ روسی حکام نے یوکرین میں غیر ملکی فوجیوں کی تعیناتی کی مخالفت کرتے ہوئے انہیں جائز فوجی اہداف قرار دیا ہے۔ لاوروف نے مغربی ممالک پر یوکرین کو جدید ہتھیار فراہم کرنے اور بیرون ملک روس مخالف کارکنوں کی حمایت کرکے روس کے خلاف پراکسی جنگ چھیڑنے کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ مغرب کا خفیہ مقصد روسی عوام کو حکومت کے خلاف کرنا ہے۔