ہومکالم و مضامینہتھوڑے اور چھڑی کا راج

ہتھوڑے اور چھڑی کا راج

شاہ نواز سیال
دنیا میں سماجی, اخلاقی اور معاشی تباہی کے ذمہ دار ڈنڈا(ج)اور ہتھوڑا(ج,ج) رہے ہیں ترقی پذیر ممالک میں زیادہ تباہی ہتھوڑے نے مچائی ہے, جس کا خمیازہ پاکستان اور پاکستانی غریب عوام بھگت رہی ہے ہتھوڑے اور چھڑی نے پاکستان میں کچھ ایسے خاندان اور فرد مسلط کیے ہیں جن کی قومی سیاست پر، قومی وسائل پر، نجی شعبوں پر تاریخی وجوہات کی بنا پر اجارہ داری آج بھی قائم و دائم ہے۔ تاہم ان کی اجارہ داری اور راہداری نے انتخابات پر اثر انداز ہونے کے مختلف انداز اختیار کیے ہوئے ہیں اور ان تمام رازوں کا علم ان ترقی پذیرممالک کے ہتھوڑے, چھڑی ، والے طاقتور لوگ معیشت کے اپنے طور طریقے طے کرتے ہیں ,جاگیردارانہ نظام میں موروثی سیاست کا کردار زیادہ رہا ہے ہمیشہ, جبکہ ملکی معیشت میں کم,پاکستان جیسے وسائل سے مالا مال ملک کو دیمک کی طرح چاٹ گئے ہیں حقیقت تو یہ ہے کہ تقریباً تمام موروثی سیاست دان نااہل اور نا تجربہ کار ہیں نا اہل میں اس وجہ سے کہوں گا کہ یہ تقریباً سیاست میں ہتھوڑے اور چھڑی والوں کی چاپلوسی کرکے آئے ہیں –
محترمہ بے نظیر بھٹو کی پر تشدد موت نے بلاول بھٹو زرداری کو کم عمری میں لیڈر بنا دیا۔
موروثی سیاست یا قیادت صرف بڑے خاندانوں تک محدود نہیں ہے یہ طرز سیاست معاشرے کے نچلے طبقوں میں بھی بہت زیادہ مروج ہے۔ ایک خاندان کی اجارہ داری صرف قومی یا صوبائی اسمبلیوں تک ہی محدود نہیں، مقامی حکومتوں میں بھی امیدواروں کی شرح موروثی سیاست کو واضح طور پر ظاہر کرتی ہے۔ میڈیا پر بیٹھ کر موروثی یا خاندانی سیاست کو برا بھلا تو کہا جاتا ہے مگر عملاً اس حمام میں سب ننگے ہیں۔
لاہور کے انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمینٹ اینڈ اکنامک آلٹرنیٹوز کے محقق، ڈاکٹر علی چیمہ اور ان کے ساتھیوں (حسن جاوید، اور محمد فاروق نصیر) نے پاکستان کی موروثی سیاست کا موازنہ دنیا کے چند دوسرے ممالک سے کیا۔ ان کے مطابق، امریکی کانگریس میں موروثی سیاست کا حصہ تقریباً 6 فیصد ہے، بھارت کی لوک سبھا میں 28 فیصد، جبکہ پاکستان کی قومی اور پنجاب کی صوبائی اسمبلی میں موروثی سیاست دانوں کا حصہ 53 فیصد ہے (کسی بھی جمہوری معاشرے کیلئے موروثی سیاست کی یہ شرح ناقابل قبول ہے۔)
انہی محقیقن کے مطابق، موروثی یا خاندانی سیاست کی ایک بنیادی وجہ یہ ہے کہ پچھلی تین دہائیوں سے پنجاب کے تقریباً 400 خاندان ہیں جو مسلسل ایسی پالیسیاں بناتے اور قانون سازیاں کرتے چلے آرہے ہیں جن کی وجہ سے قومی وسائل اور نجی شعبوں میں ان کی طاقت بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ اُن کے مطابق 1985 کے انتخابات سے 2018 کے انتخابات تک ہر انتخابی حلقے میں پہلے تین امیدواروں کی مجموعی دو تہائی تعداد موروثی یا خاندانی سیاست سے تعلق رکھتی ہے۔ اور تاحال یہ حالت بدلی نہیں یے-
اب بھی زیادہ تر خاندانی سیاست میں بیٹوں کا سب سے زیادہ حصہ ہے۔ اس کے بعد قریبی رشتہ داروں کا نمبر آتا ہے، پھر بھتیجوں کا نمبر ہے اور سب سے کم دامادوں کا حصہ ہے۔ بیٹیوں کا حصہ شاذ و نادر نظر آتا ہے۔ مجموعی طور پر یہ موروثی یا خاندانی سیاست دان 2018 کے انتخابات تک قومی اسمبلی کا تریپن فیصد رہے ہے اسی وجہ سے ہر جماعت کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ “الیکٹیبلز ” امیدوار ڈھونڈے اور اس طرح نئی جماعتیں بھی موروثی سیاست سے نہیں بچ پائیں گی –
اسی تحقیق میں یہ بھی نظر آیا ہے کہ موروثی سیاست جاگیرداروں کے طبقے تک محدود نہیں ہے، بلکہ سیاست میں آنے والے صنعت کاروں اور کاروباری طبقے بھی اپنے اپنے وارث سیاست میں لیکر آئے اور اس طرح انھوں نے موروثی سیاست کی روایت کو جلا بخشی۔ جنرل مشرف نے اپنے دور اقتدار میں امیدواروں کے لیے بی -اے, پاس ہونے کی شرط تو رکھی تھی مگر جب انھوں نے جوڑ توڑ کی سیاست کی تو سیاسی خاندانوں کے بی-اے پاس چشم و چراغ پھر سے اسمبلیوں میں پہنچ گئے۔
پنجاب کے بڑے سیاسی خاندانوں میں چوہدھری ، ٹوانے، قریشی، گیلانی، لغاری, کھوسے, مزاری, ہراج, گرمانی, خواجہ, بخاری, جنوبی پنجاب کے مخدوم اور اقتدار میں رہنے والے کھروں کے بچے، نہ صرف قومی اسمبلی میں اپنی اجارہ داری برقرار رکھتے ہیں بلکہ صوبائی اسمبلیاں بھی براہ راست ان ہی کے خاندان کے افراد یا ان سے وابستہ لوگوں کے حصے میں آتی ہیں۔
شدت پسند اور مذہبی جماعتوں میں موروثی سیاست, جیسا کہ جے یو آئی (ف) کے مولانا فضل الرحمٰن اپنے والد مفتی محمود کی وجہ سے لیڈر بنے، جبکہ جماعت اسلامی کے قاضی حسین احمد کے بعد ان کی بیٹی قومی اسمبلی کی رکن بنیں,ویسے جماعت اسلامی میں موروثی سیاست نہ ہونے کے برابر ہے –
موروثی یا خاندانی سیاست کی یہی حالت صوبہ خیبر پختون خواہ میں بھی دکھائی دیتی ہے جہاں اس وقت بڑا سیاسی خاندان پرویز خٹک کا ہے- روایتی طور پر وہاں بڑا سیاسی خاندان خان عبدالولی خان کا رہا ہے۔ ہوتیوں کا خاندان، سیف اللہ کا خاندان، یوسف خٹک کا خاندان، ایوب خان کا خاندان اور مولانا مفتی محمود کا خاندان یہ سارے خاندان موروثی سیاست سے فیض یاب ہوئے ہیں۔ قاضی حسین احمد کے خاندان کو جماعت اسلامی میں موروثی سیاست کا آغاز کہا جا سکتا ہے۔
سندھ میں کیونکہ سیاست زیادہ تر جاگیرداروں کے ہاتھ میں ہے تو وہاں موروثی سیاست معاشرتی طور پر بہت زیادہ مضبوط ہے۔ لیکن سندھ کے شہری علاقوں میں الطاف حسین کی متحدہ قومی موومینٹ نے اپنے زیر اثر حلقوں میں ایک نئی جماعت ہونے کی وجہ سے موروثی یا خاندانی سیاست کو ہلا کر رکھ دیا تھا ماضی میں ,اب جبکہ یہ جماعت بکھری ہوئی ہے ایک دوسرے کے عتاب کا شکار ہے خدشہ تو یہ ہے کہ اس میں بھی ایسی تبدیلیاں آئیں ہیں جو موروثی یا خاندانی سیاست کو واپس لانے کا سبب بنیں۔
سندھ میں عموماً موروثی سیاست کے حوالے سے بھٹو خاندان کا نام لیا جاتا ہے۔ تاہم وہاں، زیادہ تر سیاسی رہنما موروثی لیڈر ہی ہوتے ہیں۔ البتہ بھٹو خاندان کے بارے میں یہ کوئی بات نہیں کرتا ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کو موروثی سیاست نہیں ملی تھی۔ وراثت کے لحاظ سے ممتاز بھٹو کو سیاست کرنا تھی اور اگر بھٹو کی حکومت کا تختہ نہ الٹا جاتا تو بے نظیر بھٹو کے لیڈر بننے کے امکانات بہت ہی کم تھے۔ اسی طرح بے نظیر بھٹو کی اپنی پر تشدد موت نے ایک ہیجانی کیفیت پیدا کی جس کی وجہ سے قیادت ان کے بیٹے کو ملی۔ تشدد اور مارشل لا وغیرہ نے پیپلز پارٹی میں موروثی سیاست کو مضبوط کیا۔
بلوچستان میں سیاست کا محور قبائلی یا خاندانی وفاداریاں ہیں، سیاسی جماعتیں نام کی حد تک وجود رکھتی ہیں۔ اچکزئی، بزنجو، رئیسانی، مری، مینگل، بگٹی، زہری، غرض کسی کا نام بھی لیں تو ان سارے خاندانوں کی سیاسی نظام پر اجارہ داری اپنے اپنے قبائلی یا نسلی خطوں میں برقرار ہے۔ یہاں ستم ظریفی یہ ہے کہ ڈاکٹر عبدالمالک، سابق وزیر اعلیٰ، کے علاوہ باقی تمام سیاسی جماعتوں میں موروثی سیاست کی جھلک واضح دکھائی دیتی ہے –
بلوچستان میں سیاسی قیادت قبائلی نظام کی وجہ سے موروثی ہے۔
گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور کے محقیقین، عبدالقادر مشتاق، محمد ابراہیم اور محمد کلیم کے مطابق، موروثی سیاست کے بارے میں ایک نظریہ یہ پیش کیا جاتا ہے کہ کیونکہ تاریخی لحاظ سے بڑے سیاسی خاندان ریاستی وسائل، اپنی خاندانی دولت، حالات کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت اور مخالفین یا دوسروں پر تشدد کرنے کی صلاحیت پر اجارہ داری رکھتے ہیں اس لئے انہی خاندانوں کی اگلی نسل کے لیے سیاست میں اپنی حیثیت بنانا یا منوانا آسان ہوتا ہے۔
پاکستان میں موروثی سیاست یا خاندانی سیاست و قیادت نہ صرف اعلیٰ سطح پر مروج ہے بلکہ کونسلر کی سطح کے انتخابات میں بھی لوگ عموماً ایک ہی خاندان سے وابسطہ امیدواروں کو منتخب کرتے ہیں۔
پھر ایک بات اور بھی کہی جاتی ہے کہ موروثی سیاست ان معاشروں میں زیادہ مضبوط ہوتی ہے جن میں جمہوری روایات پھلی پھولی نہیں ہوتی ہیں اور غیر جمہوری قوتیں گاہے بگاہے جمہوری نظام میں مداخلت کرتی رہتی ہیں- (بھارتی پنجاب میں اگر موروثی یا خاندانی سیاست کا حصہ 28 فیصد ہے تو پاکستانی پنجاب میں 53 فیصد)۔ تاہم اب ایک رجحان دیکھا جا رہا ہے کہ موروثی سیاست دیہی علاقوں کی نسبت شہری علاقوں میں کمزور ہو رہی ہے۔
روزا بروکس اپنی کتاب A Dynasty is not Democracy میں کہتی ہیں کہ موروثی سیاست یا قیادت کو بدلنے کے لیے ضروری ہے کہ ایک غیر جانبدار عدالتی نظام حکومتوں کی کارکردگی کی نگرانی کرے جبکہ ایک طاقتور الیکشن کمیشن انتخابی نظام کی سختی سے نگرانی کرے۔ اس کے علاوہ ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ قومی دولت کی بہتر تقسیم اور صنعتی ترقی بھی موروثی سیاست کو کمزور کر سکتی ہے۔

انٹرنیشنل

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں