ہومکالم و مضامینچراغوں کے شہر میں مداری کا راج

چراغوں کے شہر میں مداری کا راج

شاہ نواز سیال

قارئین آج ہم آپ کی توجہ پاکستان کے آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑے صوبہ پنجاب کے شہر مدینتہ الاؤلیا (ملتان )کے نجی تعلیمی اداروں میں پڑھانے اساتذہ کی جانب مبذول کراتے ہیں جو اعلی تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود نجی کالجز مالکان کے دربانوں کے ہاتھوں یرغمال ہیں –
نجی تعلیمی کالجز میں اساتذہ کی دگرگوں صورت حال ذمہ داروں کو مخاطب کر رہی ہے جو فوٹو سیشن اور تحائف وصول کرنے میں بھونڈی نقل اتار رہے ہیں اپنی سوچ مسلط کرنے والے احمق تعلیم جیسے حساس موضوع پر بھاشن دیتے دکھائی دیتے ہیں جہالت کے بحراکاہل بے مزہ خوش گمانیاں , خوش بانیاں اور خوش فہمیاں پالے ہوئے ہیں قابل لوگ حیرت زدہ اور مسلسل مسائل زدہ ہیں لگتا ہے کسی زادہ رہ کی راہ دیکھ رہیں آنکھوں میں نمی, چہرے پر معصومیت, ٹھنڈی سانسیں اور باربار آسمان پر دیکھنا معمول بنتا جارہا ہے, جیسے وہ قدرت کے ہر فیصلے پر خاموش رہنا وطیرہ بنا رہے ہوں لبو پے خشک دعا سوائے مایوسی کے ان کے آنگن کو اندھیرے سے ڈرا رہی ہو وہ اندر سے بوجھل خود کو زمین پر بوجھ سمجھ رہے ہوں وہ اپنا یا پرائے دربان کا آخری فیصلہ سننے کے لیے تیار کھڑے ہوں ,فیصلہ کچھ بھی ہو, ہو ایک دوسرے سے ہمیشہ کی جدائی کا, زمانہ قدیم میں جدائی سے خوف آتا تھا اب کچھ انسانی رویوں نے انسان کو جدائی کے لامتناہی فوائد سے آگاہ کردیا ہے ہر مظلوم ظلم سے جدائی چاہتا ہے, وہ ہر شخص مظلوم ہے جس سے آپ زبردستی حقوق چھین رہے ہوں اکسویں صدی میں سب سے زیادہ مظلوم, بے سہارا یہاں کا استاد ہے اور سب سے بڑا ظالم مالکان کو دھوکہ دینے والا شاطرطراز بھروسہ کا آدمی ہے جو اپنے اختیارات کا غلط استعمال کرتے ہوئے ساری اخلاقی قدریں کھو رہا ہے تعلیمی اور اخلاقی اقدار کے پیمانے مبہم طریقے سے طے کر رہا ہے –
لگتا یہی ہے اب نجی تعلیمی اداروں کا کام تربیت کرنا نہیں صرف ڈگریوں تک بچوں کی رسائی کو ممکن بنانا ہےیہی وجہ ہے نئی نسل میں مایوسی کی یا دساور کو جانے کی مسلسل خواہش نے ڈرا دیا ہے –
نجی کالجز کے اساتذہ مسلسل ذہنی اذیت کا شکار ہورہے ہیں مہنگائی کے اپاہج دور میں ماضی جیسی غاصب سوچ کے مداری نجی کالجز مالکان کو خوش کرنے کے لیے یا اپنی زندگی چاپلوسی کی عادت کے مطابق گزارنے کےلیے تلویں چاٹنے کے ساتھ ساتھ اعلی ذہن اساتذہ کا مختلف حربوں سے ذہن نوچ رہے ہیں میرا ذہن نوچنےسے مراد اساتذہ کو بے توقیر کرنا, ان کا حق مارنا, ان کی معاشی بے بسی کا فائدہ اٹھانا, بار بار دھمکانا, ان کے اندر خوف پیدا کرنا, مارکیٹنگ سے لے کر ہیلپ سنٹر تک کا کام لینا, بار بار تعبداری کی خواہش کا پورا کرانا ,اب چاپلوسی نجی تعلیمی سیکٹر میں کامیاب ملازمت کا دوسرا نام ہے اصل شکوہ ادارہ مالکان سے ہے کیا ادارہ مالکان کو قوم کی تربیت کرنا مقصود ہے ؟ یا قوم کو مزید اندھیرے کی طرف دھکیلنا, اگر تربیت کرنا مقصد ہےتو اساتذہ کے اوپر جو انتظامیہ تعینات کریں ایک تو انتظامیہ کے سربراہ کا اعلی تعلیم یافتہ ہونا ضروری ہے اعلی تعلیم یافتہ سے مراد کسی بھی مضمون میں پی ایچ ڈی یا ایم اے پاس نہیں , اعلی تعلیم یافتہ شخص سے مراد کشادہ دل, کشادہ ذہن ہوتا ہے,اعلی سوچ ,مثبت مقاصد, مثبت کردار, اپنے ماتحتوں پر اعتماد , مساوی طرز عمل, اپنے اساتذہ پر بھروسہ, اساتذہ کا کام صرف نصاب پڑھانا نہیں ہوتا بلکہ بچوں کی تربیت کے ساتھ ساتھ بچوں کو نئی سوچ , زمانے کی ضرورت کے مطابق جدید تعلیمی ضروریات پوری کرنا ہوتا ہے, کم تعلیم یافتہ انتظامیہ سربراہان شاطر طرازی, مداری پن کی وجہ سے کالجز مالکان کو خوش رکھنے کےلیے تعلیمی معیار گرا دیتے ہیں بچوں کو بجائے معیاری تعلیم فراہم کرنے کے غیر ضروری سرگرمیوں میں ملوث کردیتے ہیں تاکہ سوشل میڈیا کے ذریعے ان کی تشہیر ہوتی رہے جگہ جگہ بچوں کے دلوں کو لبھانے کے لیے بے فائدہ سرٹیفکیٹ تقسیم کرتے رہیں ,قوم کے اعلی ذہنوں کو معیاری تعلیم, معیاری ماحول مہیا کرنے کی بجائے جب آپ پنتیس یا چالیس بچوں کی کلاس میں اسی (80)یا نوے (90)بچے بٹھا دیں پھر معیاری تعلیم یا معیاری ماحول کیسے فراہم ہوگا اس کا مطلب قوم کی تربیت کرنے کی بجائے آپ نے قوم کو مزید ذلت و رسوائے کی طرف دھکیل دیا, ایم اے, ایم فل اساتذہ کو جب آپ کالجز میں مزدور کے برابر ماہانہ تنخواہ پر لیکچرر رکھیں گے یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ کم تنخواہ پر معیاری تعلیم دے سکیں-

انٹرنیشنل

50 تبصرے

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں