ہومتازہ ترینڈچ سابق مسلم مخالف سیاست دان نے اسلام کیسے قبول کیا؟

ڈچ سابق مسلم مخالف سیاست دان نے اسلام کیسے قبول کیا؟

ترجمہ:
اشتیاق ہمدانی۔

ڈچ سابق مسلم مخالف سیاست دان اسلام قبول کرنے کی طرف اپنے سفر کا احوال سنا رہے ہیں۔
سابق اسلامو فوب سیاست دان جورام وان کلورین نے 2019 میں اسلام قبول کرنے کا اعلان کیا تھا۔

ایک سابق ڈچ رکن پارلیمنٹ اور اسلامو فوبک سیاست دان گیرٹ وائلڈرز کا دائیں بازو سمجھے جانے والے جورم وان کلیورین نے مذہب اسلام کو کیسے قبول کیا ؟

جانئے انکی کی زبانی۔

جورم وان کلیورین کہتے ہیں کہ وہ 1979 میں ایمسٹرڈیم میں ایک عقیدت مند کیلوینسٹ گھرانے میں پیدا ہوئے اور اپنی جوانی سے ہی مختلف عقائد کے نظاموں میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

“ایک نوجوان کے طور پر، مجھے عیسائی الہیات کے بارے میں کچھ شکوک و شبہات تھے، مثال کے طور پر تثلیث کے بارے میں، کیونکہ بعض اوقات میں ایک طرح سے الجھن میں پڑ جاتا تھا۔ اگر آپ دعا کر رہے تھے تو کیا ہم یسوع مسیح سے دعا کر رہے ہیں؟
کیا ہم نعوذباللہ ۔۔خدا ۔۔باپ سے دعا کر رہے ہیں؟
کیا ہم روح القدس سے دعا کر رہے ہیں؟
میں ایک طرح سے نہیں جانتا تھا،”
یہ نوٹ کرتے ہوئے کہ میں نے عیسائیت کے بارے میں اپنے سوالات کے جوابات ڈھونڈتے ہوئے یونیورسٹی کا آغاز کیا، اسی وقت 11 ستمبر 2001 کو دہشت گردانہ حملے ہوئے۔
اس سے میرے خیالات کی تصدیق ہوئی اور بعد میں (2004) تھیو وان گوگ، جو یہاں کے مشہور فلم ساز تھے، انہیں ایک ایسے لڑکے نے قتل کر دیا جو خود کو جہادی کہتا تھا۔ تو میں نے سوچا، ٹھیک ہے، یہ سب لوگ پاگل ہیں، مجھے کچھ کرنا ہے اور اسی لیے میں نے (وائلڈرز کی اسلامو فوبک) فریڈم پارٹی میں شمولیت اختیار کی۔

اس نے 2014 میں مسلمانوں کے بارے میں لوگوں کو خبردار کرنے کے لیے ایک کتاب لکھنے کا فیصلہ کیا۔

“لہذا میں ان لوگوں کو سمجھانا چاہتا تھا جنہوں نے ہمیں ووٹ دیا بلکہ دوسرے لوگوں کو بھی، کیوں کہ ہم بطور فریڈم پارٹی یا مجھے ایک شخص کے طور پر۔ میرا خیال تھا کہ اسلام ہالینڈ اور یورپ اور درحقیقت پوری دنیا میں سب سے بڑا خطرہ ہے۔

میں سمجھتا تھا کہ میں اسلام سے لڑنے کے لیے ہر ممکن کوشش کر سکتا ہوں۔
لیکن پھر میں نے پارٹی چھوڑ دی، جس کی وجہ ہالینڈ میں مراکشی لوگوں کے بارے میں متعصب رویہ تھا۔ کیونکہ مراکش کے لوگوں کے بارے میں یہ بحث تھی کہ ان کو ملک سے نکالا جائے ان کی تعداد کو کم کیا جائے ۔

پارٹی سربراہ (وائلڈرز) نے ایک ریلی کے دوران کہا کہ وہ نیدرلینڈز میں مراکش کے باشندوں کی تعداد انتہائی کم دیکھنا چاہتے ہیں۔ اور اس پارٹی سربراہ (وائلڈرز) نے ہجوم سے پوچھا، کیا تم زیادہ چاہتے ہو یا کم؟ اور ہر کوئی کم، کم، کم، کم چیخنے لگا۔

اس کے بارے میں میری اور وائلڈر کی بحث ہوئی اور میں نے نے پارٹی چھوڑ دی، کیونکہ “میں تب بھی بہت اسلام مخالف تھا لیکن میں بلجیم مخالف یا کانگو مخالف یا مراکش مخالف نہیں تھا۔”

پارٹی چھوڑنے کے بعد، 2014 میں اپنی اسلام مخالف کتاب لکھتے ہوئے، عیسائیت کے بارے میں کچھ سوالات پھر سے اٹھے۔

“میں نے سوچا، ٹھیک ہے، مجھے وہ چیزیں دوبارہ پڑھنی ہوں گی جن کے بارے میں میں نے سوچا تھا کہ میں عیسائیت کے بارے میں بھی جانتا ہوں، کیونکہ میں نے عیسائیت اور اسلام میں خدا کے تصور کا موازنہ کیا ہے۔ اور آخر میں میں نے سوچا، ٹھیک ہے، یہ قدرے زیادہ منطقی ہے کہ مسلمان کیا مانتے ہیں اس سے زیادہ کہ عیسائی خدا کے اس تصور پر یقین رکھتے ہیں۔”

سیاست چھوڑنے کے بعد میں یقیناً اسلام مخالف کتاب لکھ رہا تھا۔ یہ ایک دیرینہ خواہش تھی۔ میں اسلام کے خلاف سیاست میں کہی گئی تمام باتوں کو ایک نظریاتی بنیاد دینا چاہتا تھا۔ لیکن معلومات کی تلاش کے دوران مجھے بہت سے ایسے حقائق کا سامنا کرنا پڑا جو اسلام کے بارے میں جو سوچتا تھا اس سے متصادم تھا کہ میرے ذہن میں نئے سوالات اٹھنے لگے۔ چونکہ میں چاہتا تھا کہ یہ ایک حقیقت پر مبنی اور درست کتاب ہو، اس لیے میں نے سوال پوچھنے کے لیے مسلمان علماء سے بھی رابطہ کیا۔ ان علماء میں سے ایک پروفیسر عبد الحکیم مراد [جو پہلے ٹموتھی جان کے نام سے مشہور تھے لیکن اسلام قبول کرنے کے بعد اپنا نام تبدیل کر لیا۔] تھے۔ میں نے سوچا کہ وہ کبھی جواب نہیں دے گا کیونکہ میں ایک مسلم مخالف گروپ کا حصہ تھا۔ لیکن اس نے جواب دیا۔ اور اس نے مجھے بہت وسیع ردعمل دیا۔ اس نے خود اس سوال کا جواب دیا، پڑھنے کے لیے کتابوں کی نشاندہی کی، اور دوسرے علماء کے نام بتائے جن سے میں معلومات کے لیے پوچھ سکتا ہوں۔

اس بات کی نشاندہی کرتے ہوئے کہ اس سے قبل میں نے اسلام پر صرف مغربی مصنفین کو پڑھا تھا، جبکہ اس کے برعکس مراد نے انہیں صرف اسلامی مآخذ پڑھنے کا مشورہ دیا، اور اس میں بڑا تضاد تھا۔

چونکہ مجھے پہلے سے ہی بعض مسیحی عقیدوں (تثلیث، مسیح کی قربانی، اور اصل گناہ) کے بارے میں کچھ شکوک و شبہات تھے، میری تلاش خدا کی تلاش میں بدلنے لگی۔ اور راستے میں مجھے اپنے عیسائی سوالات کے اسلامی جوابات مل گئے۔

اپنی کتاب میں، میں اسلام کے راستے میں اپنی مختلف رکاوٹوں کے بارے میں لکھتا ہوں۔ آخری بات محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت سے متعلق تھی۔ جب میں نے ان کی زندگی اور کردار کا مطالعہ کیا (جس میں مجھے مہینوں لگے)، مجھے پورا یقین ہو گیا کہ وہ واقعی اللہ کے رسول ہیں۔

اور چونکہ میں پہلے ہی ایک خدا پر یقین رکھتا تھا، اس لیے میرے رسول کی قبولیت نے مجھے حقیقت میں ایک مسلمان بنا دیا۔ لیکن جس رات مجھے یہ احساس ہوا، تب بھی نفرت کا احساس باقی تھا۔ اور یہ تھوڑا سا ایک افسانہ کی طرح لگتا ہے، لیکن یہ واقعی ہوا: جب میں نے لکھنا ختم کیا اور یہ محسوس کیا کہ اسلام سچ ہے، میں پھر بھی اسے قبول نہیں کر سکا۔ میں مسلمان نہیں بننا چاہتا تھا۔ لیکن کتابیں رکھتے ہوئے، کچھ شیلف سے گر گئیں۔ اور ان کتابوں میں سے ایک کتاب قرآن تھی۔ جب میں نے اسے اٹھایا تو میرا انگوٹھا آیت 22:46 پر تھا، جس کا ترجمہ یہ ہے،

“آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں، بلکہ دل ہوتے ہیں۔”

اور یہ بالکل میرا مسئلہ تھا۔ میں لفظی طور پر پڑھ سکتا تھا کہ سچ کیا ہے؛ کسی نے مجبور نہیں کیا۔ میں نے وہ کتاب لکھنی تھی، اور تمام حقائق واضح تھے، اس لیے یہ میری آنکھوں یا عقل کا مسئلہ نہیں تھا، بلکہ میرے دل اور جذبات کا تھا، میں نے ایک چھوٹی سی دعا کی جہاں میں نے رب سے کہا کہ مجھے کوئی ٫یدھا راستہ عطا کرے۔ بلاشبہ کوئی قوس قزح یا سنہری ستارے نہیں گر رہے تھے، لیکن اگلے دن بیدار ہونے کے بعد، میری نفرت اور اضطراب کے جذبات بالکل ختم ہو گئے تھے۔ میں نے اپنے دل میں بہت مضبوط اور خوشی محسوس کی۔

اس دن میں نے اپنی بیوی اور اپنی والدہ کو بتایا کہ میں مسلمان ہو گیا ہوں۔

مجھے تھوڑی دیر بعد احساس ہو گیا تھا کہ اسلام ایک “جھوٹ” نہیں ہے لیکن پھر بھی انہیں اسے قبول کرنے میں دشواری کا سامنا ہے۔

اس کے آس پاس کے لوگوں نے اس کے اسلام قبول کرنے پر اچھا ردعمل نہیں دیا۔

“وہ واقعی حیران تھے۔ انہوں نے کہا ‘میں اس پر یقین نہیں کر سکتا۔ یہ ناقابل یقین ہے کہ کیا ہوا۔’ اور کچھ لوگوں نے سوچا کہ میں بیمار ہوں اور کچھ لوگوں نے واقعی سوچا کہ میں پاگل ہو گیا ہوں،‘‘ ۔

جان سے مارنے کی بہت سی دھمکیاں تھیں- لوگ میرے بچوں کو مارنا چاہتے تھے، میری بیوی کی عصمت دری کرنا چاہتے تھے۔ لیکن ظاہر ہے، ایک طرح سے، یہ میری اپنی غلطی تھی۔ میں نے ماضی میں انتہا پسندی کو پھیلایا، اور مجھے اپنے پرانے دوستوں سے یہ انتہا پسندی واپس ملی۔ جو کچھ بویا جاتا ہے وہ آخر کار کاٹنا پڑھتا ہے۔ لیکن الحمدللہ، پھر سب کچھ آسان ہوگیا۔
حالیہ برسوں میں یورپ میں بڑھتے ہوئے مسلم مخالف جذبات اسلامو فوبیا کو ہوا دینے والی چیزوں میں سے ایک اجتماعی ثقافت ہے، یہ بات قابل ذکر ہے کہ کس طرح عربوں اور مسلمانوں کو مسلسل دہشت گرد کے طور پر دکھایا جاتا ہے، خاص طور پر ہالی ووڈ کی فلموں میں۔

میرے خیال میں آج کل یہی سب سے بڑا مسئلہ ہے، آپ کے پاس میڈیا ہے۔ اور میڈیا اس کی تصویر کشی کرتا ہے کیونکہ منفی خبریں بکتی ہیں۔

“لہذا دہشت گردانہ حملوں جیسی منفی چیزیں اور اس طرح کی چیزیں، جو مسلسل دہرائی جاتی ہیں، اور یقیناً یہ بہت سے لوگوں کے ذہن کو تشکیل دیتی ہیں جو پہلے ہی متعصب ہیں۔

میں امید کرتا ہوں کہ مغرب کے مسلمان ہونے کے ناطے ہم یہ سمجھ لیں کہ زیادہ تر غیر مسلم قرآن یا حدیث (پیغمبر اسلام کی تعلیمات) نہیں پڑھ رہے ہیں۔ وہ ہمیں پڑھ رہے ہیں۔ وہ ہمارا اخلاق پڑھتے ہیں۔ ہم اکثر ان کے پاس واحد ذریعہ ہوتے ہیں۔ تو آئیے حقیقی مسلمانوں کی طرح زندگی گزارنے کی کوشش کریں۔ بہترین نمونہ سنت (پیغمبر محمد کا طریقہ زندگی) ہے۔ یہ غیر مسلموں کو اسلام کو دکھانے کا بہترین طریقہ ہے۔

انٹرنیشنل

50 تبصرے

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں