ہومتازہ ترینروسی صدر کا امریکی صحافی کارلسن کو خصوصی انٹرویو

روسی صدر کا امریکی صحافی کارلسن کو خصوصی انٹرویو

روسی صدر کا امریکی صحافی کارلسن کو خصوصی انٹرویو

ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
روسی صدر ولادیمیر پوتن نے امریکی صحافی ٹکر کارلسن کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ماسکو نے کبھی بھی یوکرین پر مذاکرات کرنے سے انکار نہیں کیا اور اسے یقین ہے کہ یہ تنازع جلد یا بدیر قیام امن کی صورت میں ختم ہو جائے گا اور دونوں ممالک کے عوام کے درمیان تعلقات بحال ہو جائیں گے۔ روسی رہنما نے اس بات کو بھی مسترد نہیں کیا کہ روس میں جاسوسی کے الزام میں امریکی شہری ایوان گرشکووچ کو رہا کیا جا سکتا ہے، اور مشہور شخصیت ایلون مسک کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کیا۔ روس کے صدر نے کہا ہے کہ امریکا اور یورپ کو اب یوکرین کے مسئلے پر روس سے جامع بات چیت کرنا ہوگی۔ امریکی صحافی ٹکر کارلسن کو 2 گھنٹے دورانیے کے متنازع انٹرویو میں صدر پوتن لگی لپٹی رکھے بغیر دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ ہم یوکرین جنگ میں فوجی سطح پر فتح کے خواہاں نہیں۔ ہم تو چاہتے ہیں کہ مغرب سے کوئی بڑی ڈیل ہو جائے۔ واضح رہے کہ روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے مغرب میں اتحادی بنانے کے لیے عشروں تک محنت کی ہے۔ روسی خفیہ اداروں سے بھی بھرپور مدد لی گئی ہے۔ روس کے لیے دوستانہ رویہ رکھنے والے سیاست دونوں سے تعلقات مزید بہتر بنانے کے لیے صدر پوتن نے سفارت کاروں کو بھی عمدگی سے بروئے کار لانے کی کوشش کی ہے۔

یوکرین پر مذاکرات:
روسی صدر کا کہنا تھا کہ روس نے کبھی بھی یوکرین پر بات چیت میں شامل ہونے سے انکار نہیں کیا لیکن مارچ 2022 میں استنبول مذاکرات کے معطل ہونے کے بعد ماسکو کا پہلا قدم اٹھانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ کیوں ہمیں اپنے آپ کو پریشان کرنے اور کسی اور کی غلطیوں کو درست کرنے کی ضرورت ہے؟

اس معاملے کو حل کرنے کے لیے جو شرائط ہیں، جن میں اس وقت صورتحال کو برقرار رکھنے کے آپشن پر بات کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ بات چیت کا موضوع ہے کوئی بھی کرنے کو تیار نہیں ہے یا اسے زیادہ درست طریقے سے کہنے کے لئے وہ تیار ہیں، لیکن نہیں جانتے کہ اسے کیسے کرنا ہے۔ میں جانتا ہوں کہ وہ کیا کرنا چاہتے ہیں۔ یہ صرف میں دیکھ ہی نہیں رہا بلکہ میں جانتا ہوں کہ وہ امن چاہتے ہیں، لیکن انھیں ایسا کرنے سے روکا جا رہا ہے.

لندن نے استنبول مذاکرات میں خلل کیوں ڈالا؟
اس حوالے سے روسی صدر نے امریکی صحافی کو بتایا کہ کون جانتا ہے؟ میں خود نہیں سمجھتا۔ ایک عمومی نقطہ نظر تھا۔ کسی نہ کسی وجہ سے ہر ایک کو یہ مغالطہ تھا کہ روس کو میدان جنگ میں شکست دی جا سکتی ہے۔ تکبر کی وجہ سے انہوں نے روس کی طاقت کا غلط اندازہ لگایا.

یوکرین کی سرحد
یوکرین ایک لحاظ سے ایک مصنوعی ریاست ہے، خاص طور پر ہنگری، پولش اور رومانیہ کی سر زمینوں کو جوزف سٹالن کی مرضی سے تشکیل دیا گیا۔ صدر پوتن نے کہا کہ انہوں نے ہنگری کے وزیر اعظم وکٹر اوربان کے ساتھ کبھی بھی ہنگری کی زمینوں کی ممکنہ واپسی پر بات نہیں کی، جو اسٹالن کے دور میں یوکرین کے حوالے کی گئی تھی۔ جہاں تک بحیرہ اسود کے علاقے کا تعلق ہے، اس کا یوکرین کے ساتھ کوئی تاریخی تعلق نہیں تھا۔

یوکرائنی بحران کی ذمہ داری
میں جانتا ہوں کہ ہر کوئی کہہ سکتا ہے کہ یہ ہماری غلطی ہے۔ یہ ہم ہی تھے جنہوں نے صورتحال کو مزید خراب کیا اور دونباس میں ٢٠١٤ میں شروع ہونے والی جنگ کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔ جیسا کہ میں پہلے ہی کہہ چکا ہوں، ہتھیاروں کے ذریعے۔ تاہم پہلے کے وعدوں کی خلاف ورزی میں نیٹو کی توسیع بھی یاد رکھنے والی چیز ہے۔ آئیے ہم ٢٠١٤ میں یوکرین میں ہونے والی بغاوت کی طرف واپس جائیں۔ یہ بے معنی ہے، ہے نا؟ ہم لامتناہی طور پر پیچھے ہٹ سکتے ہیں۔

روسی دھمکیاں
اس حوالے سے روسی صدر نے کہا کہ روسی دھمکیوں کے الزامات کا مقصد عام لوگوں کو ڈرانا ہے “ہمیں پولینڈ، لٹویا یا کسی اور جگہ سے کوئی دلچسپی نہیں ہے یہ صرف دھمکیاں پھیلانا ہے۔ سابق میزبان ٹکر کارلسن سے گفتگو میں صدر پوتن نے کہا کہ یوکرین میں جاری جنگ ختم کرانے کے لیے اب امریکا کو یوکرین کی سرزمین روس کے حوالے کرنے سے متعلق بات چیت کرنی چاہیے۔ جنگ ختم کرنے کی اور کوئی معقول صورت نہیں۔ صدر پوتن انٹرویو کے دوران امریکا کے رجعت پسند حلقوں سے خاص طور پر مخاطب ہوئے۔ انہوں نے اس بات کو سراہا کہ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرین کے لیے امداد کا پیکیج روکنے کے حوالے سے اپنا کردار ادا کرنے کی کوشش کی ہے۔ امریکا میں دائیں بازو کے سیاست دانوں کا کہنا ہے کہ امریکا میں بھی مسائل کم نہیں۔ پہلے انہیں حل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

روسی صدر نے سوال کیا کہ ایسے میں روس ے بات کرنے سے اچھی بات کیا ہوسکتی ہے۔ ولادیمیر پوتن کے انٹرویو کا بڑا حصہ مشرقی یورپ کی زمینوں پر (نویں صدی عیسوی کے بعد سے) روسی ملکیت کے تاریخی دعوے پر محیط تھا۔ روسی صدر نے چنگیز خان، رومن سلطنت اور مصنوعی ذہانت پر بھی بات کی۔ یوکرین کی جنگ کو بالکل درست اور روسی لشکر کشی کو با جواز قرار دیتے ہوئے روسی سدر نے دعویٰ کیا کہ مغرب کی طرف سے تھوپی جانے والی جنگ روکنے کے لیے روس کو یوکرین میں فوجی آپریشن شروع کرنا پڑا۔

انٹرنیشنل

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں