امریکا اب یورپ کا اتحادی نہیں رہا، بیلجیئم

Bart De Wever Bart De Wever

امریکا اب یورپ کا اتحادی نہیں رہا، بیلجیئم

ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
بیلجیئم کے وزیرِ اعظم بارٹ ڈی ویور نے کہا ہے کہ امریکا کو اب یورپ کا اتحادی نہیں سمجھا جا سکتا۔ انہوں نے یہ بیان سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں منعقدہ عالمی اقتصادی فورم کے ایک پینل مباحثے کے دوران دیا۔ جب ان سے سوال کیا گیا کہ کیا امریکا کو یورپ کا قابلِ اعتماد اتحادی تصور کیا جا سکتا ہے تو ان کا کہنا تھا، ’’بدقسمتی سے نہیں۔ میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ امریکا ہمارا اتحادی ہے، لیکن اتحادی کہلانے کے لیے طرزِ عمل بھی اتحادیوں جیسا ہونا چاہیے۔‘‘ بارٹ ڈی ویور نے پیرس میں ہونے والے نام نہاد ’’کوالیشن آف دی ولنگ‘‘ کے حالیہ اجلاس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس اجلاس میں امریکی وفد نے واضح کیا تھا کہ امریکا یوکرین تنازع میں کسی ایک فریق کا ساتھ نہیں دے گا۔ روسی خطرے سے متعلق ایک سوال کے جواب میں بیلجیئم کے وزیرِ اعظم نے کہا کہ ’’اگر مغرب متحد ہو تو روسی خطرہ اتنا بڑا نہیں، مگر مسئلہ یہ ہے کہ ہم متحد نہیں ہیں اور روس اس کمزوری کو دیکھ رہا ہے۔‘‘

انہوں نے مزید کہا کہ امریکا میں آنے والی تبدیلی کسی ایک صدر تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک ساختی تبدیلی ہے۔ ’’یہ وہ سبق ہے جو یورپ کو سیکھنا ہوگا۔ ہمیں جاگنا ہوگا، ہمیں دوبارہ مسلح ہونا ہوگا، اپنی منڈیوں کو یکجا کرنا ہوگا، اپنی معیشت کو ایک طاقت کے طور پر استعمال کرنا ہوگا اور نئے اتحاد تلاش کرنے ہوں گے۔‘‘ بارٹ ڈی ویور نے واضح کیا کہ یورپ کو اپنے موجودہ اتحاد ختم نہیں کرنے چاہئیں، لیکن اس کے ساتھ ساتھ نئے شراکت دار بھی تلاش کرنے ہوں گے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یورپ کو چین کے ساتھ رابطے اور مکالمے کا عمل جاری رکھنا چاہیے۔

Advertisement