روس نے نئی اینٹی ڈرون گولی تیار کرلی
ماسکو (صداۓ روس)
روسی اسلحہ ساز ادارے روسٹیک نے ایک نئی خصوصی اینٹی ڈرون گولی کے کامیاب تجربات کا اعلان کیا ہے، جس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ یہ چھوٹے بغیر پائلٹ فضائی آلات یعنی یو اے ویز کے خلاف فوجی اہلکاروں کی دفاعی صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ کرے گی۔ اس نئی گولی کو مونوگوتوچیے (Ellipsis) کا نام دیا گیا ہے، جو روسی فوج میں استعمال ہونے والے مختلف عام کیلبرز میں دستیاب ہوگی۔ روسٹیک کے مطابق اس گولی کی خاصیت یہ ہے کہ یہ فضا میں جا کر تین حصوں میں تقسیم ہو جاتی ہے، جس سے تین سو میٹر تک کے فاصلے پر فضائی ہدف کو نشانہ بنانے کے امکانات دو گنا سے بھی زیادہ ہو جاتے ہیں۔ روسٹیک کے عسکری کلسٹر کے صنعتی ڈائریکٹر بیکھان اوزدویف کے مطابق یہ گولہ بارود جدید جنگی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیا گیا ہے، جہاں چھوٹے ڈرونز فوجیوں کے لیے ایک بڑا خطرہ بن چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عملی تجربے سے ثابت ہوا ہے کہ ہلکے ہتھیار یو اے ویز کے خلاف ایک مؤثر دفاعی ذریعہ بن سکتے ہیں۔
روسٹیک کی جانب سے جاری کی گئی ویڈیو فوٹیج میں ایک روسی فوجی کو فائرنگ رینج میں اس نئی گولی کا استعمال کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے، جہاں اس نے تقریباً ستر میٹر کے فاصلے سے پہلے ہی فائر میں ایک چھوٹے ڈرون کو تباہ کر دیا۔ ادارے کے مطابق اس گولی کے استعمال کے لیے سروس رائفل میں کسی قسم کی تبدیلی کی ضرورت نہیں، یہ مزل اٹیچمنٹس کے ساتھ بھی فائر کی جا سکتی ہے اور عام گولیوں کے ساتھ ملا کر بھی استعمال ہو سکتی ہے۔ روسٹیک کا کہنا ہے کہ یہ نئی گولی یوکرین تنازع کے دوران میدانِ جنگ میں بھی آزمائی جا چکی ہے، جہاں اس کی کارکردگی انتہائی مؤثر ثابت ہوئی۔ اگرچہ کمپنی نے اس کے مکمل تکنیکی طریقۂ کار کی وضاحت نہیں کی، تاہم امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ گولی ایک خاص خول پر مشتمل ہے جو فضا میں جا کر مرکزی پروجیکٹائل سے الگ ہو جاتا ہے۔
گزشتہ چند برسوں کے دوران یوکرین تنازع میں مختلف اقسام کے ڈرونز، جن میں بم گرانے والے کوآڈ کاپٹرز، کامیکازی ایف پی وی ڈرونز اور زرعی مقاصد کے لیے استعمال ہونے والے بڑے آکٹو کاپٹرز شامل ہیں، میدانِ جنگ پر نمایاں کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ ان ڈرونز کو مارٹر گولے اور فضائی بم لے جانے کے لیے بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔دونوں فریقوں نے ڈرونز کے خلاف اپنی پیادہ فوج کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے شاٹ گنز کے استعمال کے ساتھ ساتھ معیاری اسالٹ رائفلز کے لیے مختلف تجرباتی کارتوس بھی آزمائے ہیں۔ تاہم ان میں سے بعض گولہ بارود ہتھیاروں کے لیے نقصان دہ ثابت ہوئے، جبکہ کچھ کے خول تیز رفتاری سے الگ ہونے کے باعث قریبی فوجیوں کے لیے خطرہ بن گئے۔