جنوبی افریقہ نے صدر رامافوسا کی توہین پر اسرائیلی سفارتکار کو بے دخل کردیا

Cyril Ramaphosa Cyril Ramaphosa

جنوبی افریقہ نے صدر رامافوسا کی توہین پر اسرائیلی سفارتکار کو بے دخل کردیا

ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
جنوبی افریقہ کی وزارتِ خارجہ نے اسرائیلی سفارتخانے کے قائم مقام ناظم الامور ایریل سیڈمین کو ملک میں ناپسندیدہ شخصیت (پرسونا نان گراتا) قرار دے دیا ہے۔ یہ اعلان 30 جنوری کو جنوبی افریقہ کے محکمۂ بین الاقوامی تعلقات و تعاون کی جانب سے جاری ایک سرکاری بیان میں کیا گیا۔ وزارتِ خارجہ کے مطابق حکومتِ جنوبی افریقہ نے ریاستِ اسرائیل کو باضابطہ طور پر اس فیصلے سے آگاہ کر دیا ہے کہ ایریل سیڈمین کو ان کے سفارتی عہدے کے لیے اب قابلِ قبول نہیں سمجھا جاتا۔ بیان میں کہا گیا کہ یہ فیصلہ اسرائیلی سفارتکار کی جانب سے صدر سیرل رامافوسا اور دیگر اعلیٰ ریاستی حکام کے خلاف سرکاری اسرائیلی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر کیے گئے توہین آمیز اور نامناسب بیانات کے بعد کیا گیا۔ محکمے نے واضح کیا کہ جمہوریہ جنوبی افریقہ کی خودمختاری، ریاستی اداروں کا وقار اور منتخب قیادت کا احترام ناقابلِ تنسیخ ہے، اور کسی غیر ملکی نمائندے کو اس کی خلاف ورزی کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ وزارتِ خارجہ کے مطابق سفارتی آداب کی خلاف ورزی اور ریاستی قیادت کی تضحیک بین الاقوامی تعلقات کے اصولوں کے منافی ہے۔

واضح رہے کہ مارچ 2025 میں جنوبی افریقہ کے سفیر امراہیم رسول کو امریکا کی جانب سے ناپسندیدہ شخصیت قرار دے کر ملک بدر کیا گیا تھا۔ اس موقع پر امراہیم رسول نے کہا تھا کہ وہ واشنگٹن کی جانب سے دیے گئے پرسونا نان گراتا کے اعزاز پر فخر محسوس کرتے ہیں۔ کیپ ٹاؤن ایئرپورٹ پر وطن واپسی پر ان کا اور ان کی اہلیہ کا سینکڑوں حامیوں نے قومی ہیرو کے طور پر استقبال کیا تھا۔ امراہیم رسول نے اس وقت کہا تھا کہ اگرچہ واپسی ان کا ذاتی انتخاب نہیں تھی، لیکن وہ کسی قسم کے پچھتاوے کے بغیر اپنے وطن لوٹے ہیں۔

Advertisement