امریکا ایران پر حملے کے لیے تیار نہیں، وال اسٹریٹ جرنل
ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ امریکا اس وقت ایران پر فوجی حملے کے لیے تیار نہیں، کیونکہ ممکنہ ایرانی جوابی کارروائی سے نمٹنے کے لیے مشرقِ وسطیٰ میں مزید فضائی دفاعی نظام تعینات کرنے کی ضرورت ہے۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ چند ہفتوں کے دوران واشنگٹن نے مشرقِ وسطیٰ میں اپنی فوجی موجودگی میں نمایاں اضافہ کیا ہے، جسے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ’’ایک شاندار اور بڑی بحری طاقت‘‘ قرار دیا۔ اس فوجی تعیناتی کی قیادت یو ایس ایس ابراہام لنکن طیارہ بردار بحری جہاز کر رہا ہے، جس کا مقصد تہران پر نئے جوہری معاہدے کے لیے دباؤ بڑھانا ہے۔ تاہم اخبار کا کہنا ہے کہ اس فوجی تیاری کے باوجود ایران پر امریکی فضائی حملے فوری طور پر متوقع نہیں، کیونکہ امریکا چاہتا ہے کہ اسرائیل، عرب اتحادیوں اور خطے میں موجود امریکی افواج کو کسی بھی ممکنہ ردعمل سے مکمل تحفظ حاصل ہو۔ اسی تناظر میں پینٹاگون اردن، کویت، بحرین، سعودی عرب، قطر اور دیگر ممالک میں امریکی اڈوں پر اضافی تھاڈ اور پیٹریاٹ فضائی دفاعی نظام منتقل کر رہا ہے۔
رپورٹ میں یاد دلایا گیا ہے کہ گزشتہ سال جون میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایرانی جوہری تنصیبات پر حملوں کے بعد ایران نے اسرائیل پر حملے کیے تھے اور قطر میں امریکی العدید ائربیس کو بھی نشانہ بنایا تھا، تاہم ایران کی جانب سے پیشگی اطلاع دینے کے باعث امریکی اڈے کو محدود نقصان پہنچا تھا۔ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے اتوار کے روز خبردار کیا کہ اگر امریکا نے فوجی کارروائی شروع کی تو اس کے اثرات پورے مشرقِ وسطیٰ میں پھیلیں گے اور یہ ایک علاقائی جنگ کی صورت اختیار کر سکتی ہے۔ بعد ازاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خامنہ ای کے بیان کو رد کرتے ہوئے کہا کہ امید ہے معاملات سفارت کاری کے ذریعے حل ہو جائیں گے، تاہم اگر ایسا نہ ہوا تو صورتحال کا اندازہ بعد میں ہو جائے گا۔ ادھر ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سربراہ علی لاریجانی، جنہوں نے جمعے کے روز ماسکو میں روسی صدر ولادیمیر پوتن سے ملاقات کی، کا کہنا ہے کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات کی جانب پیش رفت ہو رہی ہے۔ روسی صدارتی ترجمان دمتری پیسکوف نے بھی فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ بات چیت کو ترجیح دیں، کیونکہ طاقت کے استعمال سے خطے میں شدید عدم استحکام اور خطرناک نتائج پیدا ہو سکتے ہیں۔