صومالیہ میں مسافر طیارے کی سمندر میں ہنگامی لینڈنگ، تمام مسافر محفوظ
ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
صومالیہ کے دارالحکومت موغادیشو میں ایک مسافر طیارہ منگل کے روز ہنگامی صورتحال کے باعث سمندر میں لینڈ کرنے پر مجبور ہوگیا۔ طیارے میں 55 افراد سوار تھے جن میں 50 مسافر اور پانچ عملے کے ارکان شامل تھے۔ حکام کے مطابق واقعے میں کوئی جانی نقصان یا زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔ اسٹارسکی ایوی ایشن کا طیارہ عدن عبداللہ انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے شمالی شہر گالکایو کے لیے روانہ ہوا تھا، تاہم پرواز کے تقریباً 15 منٹ بعد فنی خرابی پیدا ہوگئی۔ پائلٹ نے احتیاطی تدبیر کے طور پر موغادیشو واپسی اور ہنگامی لینڈنگ کی کوشش کی، مگر طیارہ رن وے سے آگے نکل گیا اور ساحل کے قریب سمندر میں اتر گیا۔ ریسکیو ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور تمام مسافروں کو بحفاظت نکال لیا گیا۔ صومالی سول ایوی ایشن اتھارٹی (ایس سی اے اے) نے تصدیق کی کہ صرف طیارے کو نقصان پہنچا ہے جبکہ تمام مسافروں کو طبی معائنے کے لیے قریبی اسپتال منتقل کیا گیا۔ حکام نے بتایا کہ حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے باقاعدہ تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔
افریقی یونین کے مشن (اے یو ایس ایس او ایم) کے قائم مقام سربراہ ایمبیسڈر مختار عثمان کاریے اور ٹرانسپورٹ وزیر محمد فراہ نوکس بھی موقع پر موجود رہے اور امدادی کارروائیوں کی نگرانی کی۔ سوشل میڈیا پر شیئر ہونے والی تصاویر اور ویڈیوز میں فوکر 50 طیارہ نمایاں وِنگ ڈیمیج کے ساتھ ساحل کے قریب دیکھا گیا، تاہم اس کا ڈھانچہ زیادہ تر محفوظ دکھائی دیا۔
اسٹارسکی ایوی ایشن کے سی ای او احمد نور نے حادثے پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ عملے کی پیشہ ورانہ مہارت کے باعث ایک بڑے سانحے سے بچاؤ ممکن ہوا۔ ماضی میں بھی ایسے واقعات پیش آچکے ہیں جہاں پائلٹس کی بروقت کارروائی نے قیمتی جانوں کو محفوظ رکھا۔