یورپ کی فوجی تیاریاں براہ راست روس کے خلاف ہیں, سی ایس ٹی او سربراہ
ماسکو (صداۓ روس)
اجتماعی سلامتی معاہدہ تنظیم (سی ایس ٹی او) کے جوائنٹ اسٹاف کے سربراہ کرنل جنرل آندرے سردیوکوف نے کہا ہے کہ یورپ میں جاری عسکریت پسندی کھلے عام روس کے خلاف سمت اختیار کیے ہوئے ہے۔ انہوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ یورپی خطے میں فوجی تیاریوں کی رفتار تیزی سے بڑھ رہی ہے اور یہ اقدامات روس کے ساتھ ممکنہ فوجی محاذ آرائی کی تیاری کے طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔ کرنل جنرل سردیوکوف کے مطابق سی ایس ٹی او ممالک کے قریبی علاقوں میں اتحادی افواج کی موجودگی میں مسلسل اضافہ کیا جا رہا ہے، جبکہ مختلف ریاستوں کے علاقوں کو تیزی سے مضبوط اور قلعہ بند بنایا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ متعلقہ عسکری انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے اور دفاعی سہولیات کی اپ گریڈیشن پر بھی بھرپور توجہ دی جا رہی ہے۔
سی ایس ٹی او کے عہدیدار نے مشرقی یورپ کو موجودہ حالات میں سب سے زیادہ حساس اور پیچیدہ خطہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس خطے میں سیکیورٹی کی صورتحال خاص طور پر مشکل رخ اختیار کر رہی ہے، جہاں کشیدگی اور غیر یقینی کے عوامل میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
سردیوکوف نے علاقائی عدم استحکام کی بنیادی وجہ مغربی ممالک کے ان اقدامات کو قرار دیا جن کا مقصد یوکرین میں مسلح تنازع کو طول دینا ہے۔ ان کے بقول یہ پالیسیاں خطے میں تناؤ کو برقرار رکھنے اور سیکیورٹی ماحول کو مزید پیچیدہ بنانے کا باعث بن رہی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سال 2025 مجموعی طور پر بڑھتی ہوئی جیوپولیٹیکل کشیدگی اور اجتماعی سلامتی کے خطوں میں صورتحال کی شدت سے نمایاں رہا۔ سردیوکوف کے مطابق عدم استحکام کے مراکز سی ایس ٹی او رکن ممالک کی سرحدوں کے قریب موجود ہیں، جس سے علاقائی سیکیورٹی کو اضافی خطرات لاحق ہیں۔
سی ایس ٹی او کے دفاعی عہدیدار نے خبردار کیا کہ بعض مغربی ممالک کے غیر دوستانہ اقدامات اور دنیا کی اکثریتی ریاستوں کے ساتھ تعاون سے انکار عالمی سیکیورٹی کے ڈھانچے میں منفی تبدیلیوں کا سبب بن رہا ہے۔ ان کے مطابق یہ رجحانات بین الاقوامی سلامتی کے پورے نظام پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔