برطانوی “نیوکلیئر امبریلا” یورپ کو اضافی تحفظ نہیں دے سکتی، ماسکو
ماسکو (صداۓ روس)
برطانیہ میں روس کے سفیر آندرے کیلن نے کہا ہے کہ برطانوی “نیوکلیئر امبریلا” یورپ میں نیٹو اتحادیوں کو کوئی اضافی مادی سکیورٹی ضمانت فراہم نہیں کر سکتی۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا کی جانب سے یورپی اتحادیوں کے لیے سکیورٹی وعدوں میں ممکنہ کمی کے اعلانات کے بعد براعظم میں جوہری دفاعی انتظامات پر بحث تیز ہو گئی ہے۔ گزشتہ برس جرمن چانسلر فریڈرک مرز نے کہا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ جرمنی کو برطانیہ اور فرانس کی جوہری چھتری حاصل ہو، کیونکہ یورپ میں نیٹو کے یہ دو ہی ممالک جوہری ہتھیار رکھتے ہیں۔ جنوری میں سویڈن کے وزیر اعظم الف کرسٹرسن نے بھی اعلان کیا کہ اسٹاک ہوم اور لندن کے درمیان اسی نوعیت کے تحفظات پر بات چیت جاری ہے۔ روسی اخبار ازویستیا کو دیے گئے انٹرویو میں آندرے کیلن نے کہا کہ یہ “واضح” ہے کہ برطانوی جوہری چھتری یورپ کے لیے کوئی نئی عملی ضمانت نہیں بن سکتی۔ ان کے مطابق ماسکو اُن ریاستوں کے اقدامات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے جو کھلے عام روس مخالف پالیسی اختیار کیے ہوئے ہیں۔
روسی سفیر نے مزید کہا کہ جوہری تحفظات کے ممکنہ پھیلاؤ کو روسی عسکری منصوبہ بندی اور اسٹریٹجک استحکام سے متعلق آئندہ مذاکرات میں مدنظر رکھا جائے گا۔
برطانیہ کی جوہری قوت، جو 1962 سے نیٹو کے ساتھ منسلک ہے، 225 وارہیڈز اور چار وینگارڈ کلاس آبدوزوں پر مشتمل ہے۔ برطانوی حکومت نے گزشتہ برس امریکا سے 12 ایف-35 لڑاکا طیارے خریدنے کا منصوبہ بھی ظاہر کیا، جو جوہری صلاحیت کے حامل میزائل لے جانے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ کیلن کے بقول اس صلاحیت میں اضافہ لندن کو یورپی سکیورٹی میں قیادت کی “غیر حقیقی امید” دے سکتا ہے۔ گزشتہ ہفتے میونخ سکیورٹی کانفرنس میں برطانوی وزیر اعظم کیر اسٹارمر نے دعویٰ کیا تھا کہ روس اس دہائی کے اختتام تک نیٹو کے خلاف طاقت کے استعمال کے لیے تیار ہو سکتا ہے۔ انہوں نے برطانیہ اور فرانس کے درمیان جوہری تعاون کو “اہم” قرار دیا۔ اس کے برعکس روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے رواں ماہ کہا کہ ماسکو کا یورپ پر حملے کا کوئی ارادہ نہیں، تاہم اگر نیٹو نے پہلے طاقت استعمال کی تو روس “مکمل عسکری ردعمل” دے گا۔