امریکہ نے 12 مارچ سے پہلے لوڈ کیے گئے روسی تیل پر پابندیاں اٹھا دیں

Russian Tanker Russian Tanker

ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)

امریکی محکمہ خزانہ نے آفس آف فارن ایسٹس کنٹرول (او ایف اے سی) کی جانب سے جاری کردہ ایک استثنیٰ کے تحت 12 مارچ سے پہلے ٹैंکروں پر لوڈ کیے گئے روسی تیل کو پابندیوں سے مستثنیٰ قرار دے دیا ہے۔
اس عمومی لائسنس کے تحت اب 11 اپریل کو شام 4 بج کر 01 منٹ تک (جی ایم ٹی) اس تیل کی خریداری کی اجازت ہے۔ تاہم یہ عمومی لائسنس ایران سے متعلق کسی بھی لین دین پر لاگو نہیں ہوتا۔
امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ امریکی حکومت نے روسی تیل اور اس کے مشتقات کو پابندیوں سے مستثنیٰ کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ عالمی منڈی میں سپلائی بڑھا کر تیل کی قیمتوں میں کمی لائی جا سکے۔ انہوں نے لکھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ “عالمی توانائی کی منڈیوں میں استحکام کو فروغ دینے اور قیمتیں کم رکھنے کے لیے فیصلہ کن اقدامات کر رہے ہیں۔” وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ “موجودہ سپلائی کی عالمی رسائی بڑھانے کے لیے امریکی محکمہ خزانہ ایک عارضی اجازت جاری کر رہا ہے جس کے تحت ممالک سمندر میں پھنسے ہوئے روسی تیل کی خریداری کر سکیں گے۔”