قازان (اشتیاق ہمدانی )
روس کے شہر قازان میں منعقد ہونے والا 17 واں روس-اسلامی دنیا قازان فورم عالمی سطح پر اپنی رسائی مزید وسعت دے رہا ہے۔ فورم کے دوران 103 ممالک کے نمائندوں کی شرکت متوقع ہے جبکہ تجارت، ثقافت، مصنوعی ذہانت اور سرمایہ کاری کے منصوبوں پر اہم بات چیت ہو گی۔
تاتارستان انویسٹمنٹ ڈیولپمنٹ ایجنسی کی ڈائریکٹر جنرل اور قازان فورم کی وفاقی آرگنائزنگ کمیٹی کی رکن تالیا مینولینا نے بدھ کو پریس بریفنگ میں بتایا کہ فورم کے دوران 118 معاہدوں پر دستخط کیے جانے کی توقع ہے۔
انہوں نے بتایا کہ روسی صدر ولادیمیر پوتن کے دستخط شدہ حکم نامے کے تحت قازان فورم کو وفاقی حیثیت حاصل ہو چکی ہے۔ فورم کی آرگنائزنگ کمیٹی کی سربراہی روسی نائب وزیراعظم مارات خس نولین کر رہے ہیں، جبکہ تاتارستان کے سربراہ Rustam Minnikhanov تیاریوں میں مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں۔
تالیا مینولینا نے کہا کہ رجسٹریشن سسٹم کے مطابق اب تک 103 ممالک نے شرکت کی تصدیق کر دی ہے، جو فورم کی تاریخ میں سب سے بڑی بین الاقوامی نمائندگی ہے۔ فورم کے دوران 149 بزنس سیشنز منعقد ہوں گے، جو بنیادی طور پر قازان ایکسپو انٹرنیشنل ایگزیبیشن سینٹر اور شہر کے دیگر مقامات پر ہوں گے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ بین الاقوامی قازان حلال مارکیٹ کا باقاعدہ افتتاح جمعرات کو ایگرو انڈسٹریل پارک میں ہو گا۔ اس موقع پر نمائشوں، فیشن شوز، اعزاز کی تقریب اور مذہبی پروگراموں کا بھی اہتمام کیا گیا ہے۔ فورم میں 368 وی آئی پی وفود، 152 سرمایہ کاری کے منصوبوں کی نمائش اور 118 معاہدوں پر دستخط متوقع ہیں۔
ثقافتی تعاون کے حوالے سے تاتارستان کی کلچر منسٹر عِرادہ ایوپووا نے کہا کہ قازان کو اسلامی دنیا کا ثقافتی دارالحکومت قرار دیا جانا اہم پیش رفت ہے۔ تنظیم اسلامی تعاون (OIC) کے رکن ممالک کے کلچر وزراء کی کانفرنس بھی منعقد ہو گی۔
روس-اسلامی دنیا اسٹریٹجک ویژن گروپ کے نائب سربراہ مارات گاتن نے بتایا کہ گروپ اپنی 20 ویں سالگرہ منا رہا ہے اور فورم کے سیشنز میں سیاست، معیشت، تعلیم اور ثقافت کے شعبوں میں تعاون پر بات ہو گی۔