ایران نے 70 فیصد میزائل اور لانچرز اب بھی محفوظ رکھے ہوئے ہیں، نیویارک ٹائمز

Iran missile Iran missile

ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)

امریکی انٹیلی جنس اداروں کے تخمینوں اور سیٹلائٹ تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کی فوجی طاقت کو مکمل طور پر تباہ کرنے کے دعووں کی حقیقت سے مطابقت نہیں ہے۔ دی نیویارک ٹائمز (NYT) نے 13 مئی کو اپنی رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایران کے پاس اب بھی ملک بھر میں تقریباً 70 فیصد موبائل لانچرز موجود ہیں اور جنگ سے پہلے والے میزائل ذخیرے کا تقریباً 70 فیصد حصہ محفوظ ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایران نے اپنی تقریباً 90 فیصد انڈر گراؤنڈ میزائل اسٹوریج سہولیات اور لانچرز تک دوبارہ رسائی حاصل کر لی ہے۔
رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ صرف آبنائے ہرمز کے ساحل پر واقع تین ایرانی فوجی اڈے مکمل طور پر تباہ ہوئے ہیں اور اب قابل استعمال نہیں رہے۔ باقی اڈوں پر اسلامی جمہوریہ نے لانچرز یا ان کے اجزاء کو مکمل یا جزوی طور پر بحال کر لیا ہے۔
واضح رہے کہ 2 مئی کو جب ٹیہران سے 14 نکاتی امن منصوبہ موصول ہوا تو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے باقی تمام میزائل صلاحیتوں کو تباہ کرنے کا عزم ظاہر کیا تھا۔ اگلے ہی روز انہوں نے ایران کے امن تجاویز کو مسترد کر دیا اور انہیں ناقابل قبول قرار دیا۔
5 مئی کو ABC نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے ایران کی بحریہ کو مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے اور اس کی فوج کے بیشتر حصے کو نقصان پہنچایا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کو امریکی فوج کی جانب سے پہنچائے گئے تمام نقصانات کی مرمت میں 20 سال لگیں گے۔