یورپی یونین کی روس سے ریکارڈ مقدار میں LNG خریداری، پابندیاں ناکام

Lng Tanker Lng Tanker

ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)

یورپی یونین نے روس سے مائع قدرتی گیس (LNG) کی درآمدات اس سال ریکارڈ سطح پر بڑھا دی ہیں، جبکہ ایران جنگ کی وجہ سے پیدا ہونے والے توانائی بحران نے یورپ کو متبادل تلاش کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ امریکی انسٹی ٹیوٹ فار انرجی اکنامکس اینڈ فنانشل اینالیسس (IEEFA) کی رپورٹ کے مطابق رواں سال جنوری سے مارچ کے دوران یورپی یونین کی روسی LNG درآمدات میں 16 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ فرانس، اسپین اور بیلجیم سب سے زیادہ خریدار رہے۔ روس اب بھی یورپی یونین کا دوسرا سب سے بڑا LNG سپلائر ہے، حالانکہ یورپی یونین 2027 تک روسی فوسل فیول ختم کرنے کا ہدف رکھتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2025 میں یورپی ممالک نے روسی پائپ لائن گیس پر 5.9 ارب یورو جبکہ روسی LNG پر 6.7 ارب یورو خرچ کیے۔ ایران جنگ اور آبنائے ہرمز میں نقل و حرکت کی رکاوٹ کی وجہ سے قطری برآمدات متاثر ہوئیں، جس سے یورپ کو روس اور امریکہ پر زیادہ انحصار بڑھنا پڑا۔
IEEFA کی لیڈ انرجی انالسٹ انا ماریا جالر-مکارے وچ نے کہا کہ “مشرق وسطیٰ کی جنگ نے یورپ کو اس کے دو بڑے LNG سپلائرز — امریکہ اور روس — پر مزید انحصار کر دیا ہے۔” رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ یورپی یونین مہنگے امریکی LNG پر شدید انحصار کا خطرہ مول لے رہی ہے۔ کچھ یورپی سیاست دان اب روس پر عائد پابندیوں پر نظرثانی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔