ماسکو (صداۓ روس)
روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف جنگ اس لیے شروع کی تاکہ تہران کے خلیجی ممالک کے ساتھ تعلقات کی بحالی کو روکا جا سکے۔ RT India کو دیے گئے انٹرویو میں لاوروف نے کہا کہ اس مہم کا مقصد عرب ممالک کو اسرائیل کے قریب لانا اور فلسطین کی حمایت سے دستبردار کرنا تھا۔ انہوں نے 28 فروری کو ایران پر کیے گئے امریکہ اسرائیل کے فضائی حملوں کو “بلا اشتعال” قرار دیا اور تہران کے جواب کو خود دفاع کا عمل قرار دیا۔
لاوروف نے واضح کیا کہ “مجھے کوئی شک نہیں کہ ایران کے خلاف جارحیت کے منصوبے بناتے وقت ایک اہم ہدف ایران اور عرب ممالک کے درمیان تعلقات کی بحالی کو روکنا تھا۔ اب ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے کہ یہ مصالحت کبھی نہ ہو سکے۔”
انہوں نے الزام لگایا کہ امریکہ عرب ممالک پر دباؤ ڈال کر انہیں فلسطینی معاملے سے غداری پر مجبور کر رہا ہے۔ لاوروف نے ایک بار پھر امریکہ پر “نوآبادیاتی” طریقے استعمال کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن سب کو سستا روسی تیل خریدنے کی بجائے مہنگا امریکی تیل اور مائع قدرتی گیس خریدنے پر مجبور کرنا چاہتا ہے تاکہ عالمی توانائی پر کنٹرول حاصل کر کے دنیا پر حکمرانی کی جا سکے۔
دریں اثنا اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیٹن یاہو نے بدھ کو دعویٰ کیا کہ جنگ کے عروج پر وہ خفیہ طور پر متحدہ عرب امارات گئے تھے اور اسے “تاریخی پیش رفت” قرار دیا۔ تاہم متحدہ عرب امارات نے اس دورے کی تردید کر دی ہے۔