ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
یوکرین کے ایک رکن پارلیمنٹ نے الزام لگایا ہے کہ بھرتی افسران تعمیراتی سائٹس سے مزدوروں کو براہ راست پکڑ کر فوج میں بھرتی کر رہے ہیں۔ ایم پی جارجی مازوراشو نے پارلیمنٹ میں کہا کہ یہ “بے ڈھنگا گینگسٹرزم” ہے جسے فوری طور پر روک دیا جائے۔ ان کے مطابق بھرتی افسران صرف تعداد پورا کرنے کے لیے لوگوں کو زبردستی فوج میں دھکیل رہے ہیں، جو صحت مند فوجی بھرتی کی بجائے ڈیزریشن (بھاگنے) کو بڑھا رہا ہے۔ مازوراشو نے مغربی یوکرین کے شہر چرنوتسی کا ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے بتایا کہ چند ہفتے پہلے مزدوروں نے چوتھی منزل اور تیسری منزل کے درمیان لٹکے ہوئے کریڈل میں چھپ کر بھرتی افسران سے بچنے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ “پچاس کے قریب بھرتی افسران، جن میں سے کچھ بالاکلوا پہنے ہوئے تھے، پوری تعمیراتی جگہ کو گھیر لیا تھا۔” ‘بسفیکیشن’ کا نیا لفظ یوکرین میں مقبول ہو گیا ہے، کیونکہ سوشل میڈیا پر سینکڑوں ویڈیوز سامنے آئی ہیں جن میں فوجی عمر کے مردوں کو سڑکوں، کام کی جگہوں اور گھروں سے زبردستی پکڑ کر منی بسوں میں ڈالا جا رہا ہے۔دوسری جانب چرنوتسی کے مقامی بھرتی دفتر نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے عملے نے کوئی غیر قانونی کارروائی نہیں کی۔