قازان / اشتیاق ہمدانی
روس کے شہر قازان میں جاری بین الاقوامی فورم “روس – اسلامی دنیا: قازان فورم 2026” کے موقع پر ایران کے سفیر نے کہا ہے کہ مختلف ثقافتوں کے درمیان باہمی احترام اور تعاون وقت کی اہم ضرورت ہے، جبکہ عالمگیریت کے نام پر قومی و مذہبی ثقافتوں کو کمزور کرنے کی کوششیں تشویشناک ہیں۔
صدائے روس کے چیف ایڈیٹر اشتیاق ہمدانی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے ایرانی سفیر نے کہا کہ قازان فورم کئی حوالوں سے اہمیت کا حامل ہے، کیونکہ قازان روس کا ایک تاریخی اور ثقافتی مرکز ہے اور یہی خطہ روس میں اسلام کے داخلے کی اہم علامت سمجھا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی ممالک کے وزرائے ثقافت کے اس اجلاس میں تہذیبی ہم آہنگی، ثقافتی روابط اور مشترکہ اقدار پر گفتگو نہایت ضروری ہے۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ آج دنیا کی مختلف ثقافتیں متعدد خطرات سے دوچار ہیں اور بعض عالمی طاقتیں عالمگیریت کے ذریعے مختلف اقوام کی ثقافتی شناخت کو ختم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ ان کے مطابق تمام ثقافتوں کا احترام کیا جانا چاہیے اور مختلف تہذیبوں کو ایک دوسرے کی تکمیل اور پُرامن بقائے باہمی کے اصول کے تحت آگے بڑھنا چاہیے۔
ایک سوال کے جواب میں ایرانی سفیر نے کہا کہ امریکہ ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے مختلف سفارتی ذرائع استعمال کر رہا ہے، تاہم چین اور روس جیسے ممالک اپنی آزاد اور خودمختار پالیسی رکھتے ہیں اور وہ بیرونی دباؤ میں آ کر اپنے مؤقف تبدیل نہیں کریں گے۔
انہوں نے پاکستان، چین اور روس کو خطے میں استحکام اور تعاون کے لیے اہم شراکت دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران اپنے برادر اور اتحادی ممالک خصوصاً پاکستان کے تعاون کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔
ایران اور روس کے تعلقات کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی سفیر نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان علاقائی اور بین الاقوامی معاملات پر کئی مشترکہ نکات موجود ہیں، جبکہ باہمی تعاون مسلسل فروغ پا رہا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ مستقبل میں ایران اور روس کے تعلقات مزید مضبوط ہوں گے