ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
ہنگری کے وزیرِاعظم وکٹر اوربان نے کہا ہے کہ روس کی مدد کے بغیر یورپ میں جاری توانائی بحران کا خاتمہ ممکن نہیں اور یورپی یونین کی وہ حکمت عملی ناکام ہو چکی ہے جس کا مقصد روس کو عالمی سطح پر تنہا کرنا تھا۔ انہوں نے یہ بات جرمن اخبار “ویلٹ آم زونٹاگ” میں شائع ہونے والے اپنے ایک مضمون میں کہی۔
وکٹر اوربان کا کہنا تھا کہ امریکہ پہلے ہی روس کے ساتھ مذاکرات کر رہا ہے اور اس نے بھارت کو دوبارہ روسی تیل درآمد کرنے کی اجازت دے دی ہے، جبکہ اس کے برعکس برسلز روسی توانائی پر عائد پابندیوں کو معطل کرنے کے بارے میں سننے کے لیے بھی تیار نہیں۔ ان کے مطابق منافع بخش روسی تیل اور گیس کے بغیر یورپ کے لیے موجودہ توانائی بحران سے نکلنا ممکن نہیں۔
انہوں نے کہا کہ روس کو تنہا کرنے اور مسلسل نئی پابندیاں عائد کر کے اسے معاشی طور پر کمزور کرنے کا تصور عملی طور پر ناکام ثابت ہوا ہے، کیونکہ اس سے یوکرین میں جاری جنگ کے خاتمے میں کوئی مدد نہیں ملی۔ ان کے بقول یورپی حکمت عملی میں روس کے ساتھ براہِ راست مذاکرات سے انکار بھی شامل تھا، اور یہ پالیسی اس وقت بھی جاری رہی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں امریکہ نے کیف کو فوجی اور مالی امداد دینا بند کر دیا۔
ہنگری کے وزیرِاعظم نے مزید کہا کہ اس یورپی حکمت عملی کی ناکامی نے بہت سے سوالات کو جنم دیا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے باعث صورتحال مزید کشیدہ ہو چکی ہے اور یورپ کی معاشی مسابقت کو بھی شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس صورتحال کے نتیجے میں یورپ میں لاکھوں ملازمتیں خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔
وکٹر اوربان کے مطابق یورپ کے عوام گزشتہ چار برسوں سے اس صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ لوگ توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں، پیٹرول اور ڈیزل کی مہنگائی اور یورپ کی کبھی طاقتور صنعتوں کی تباہی برداشت کر رہے ہیں۔