ماسکو (صداۓ روس)
روسی صدر صدر پوتن اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ایک گھنٹہ تیس منٹ طویل ٹیلیفونک گفتگو ہوئی، جسے کریملن نے واضح اور کاروباری نوعیت کی بات چیت قرار دیا ہے۔ روسی صدارتی معاون برائے بین الاقوامی امور یوری اوشاکوف کے مطابق دونوں رہنماؤں نے 9 مئی یومِ فتح جنگ بندی, یوکرین تنازع، امن عمل اور ایران کے گرد صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ دونوں صدور نے مستقبل میں بھی براہِ راست رابطے، معاونین اور نمائندوں کی سطح پر بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ یہ سن 2025 میں ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس واپسی کے بعد دونوں رہنماؤں کے درمیان بارہواں ٹیلیفونک رابطہ تھا، جبکہ اس سے قبل آخری گفتگو 9 مارچ کو ہوئی تھی۔ یوری اوشاکوف کے مطابق صدر پوتن نے ٹرمپ کو بتایا کہ روس یومِ فتح کی تقریبات کے دوران جنگ بندی کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹرمپ نے اس تجویز کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ یہ تعطیل دوسری جنگِ عظیم میں نازی ازم کے خلاف مشترکہ فتح کی یادگار ہے۔
روسی صدر نے امریکی ہم منصب کو جنگی محاذ کی صورتحال سے بھی آگاہ کیا اور کہا کہ روسی افواج اس وقت اسٹریٹجک برتری رکھتی ہیں اور مخالف پوزیشنز کو پیچھے دھکیل رہی ہیں۔
صدر پوتن نے بتایا کہ سن 2025 کے آغاز سے روس یوکرین کو 20 ہزار سے زائد لاشیں منتقل کر چکا ہے، جبکہ جواب میں روس کو 500 سے کچھ زائد لاشیں موصول ہوئی ہیں۔
یوری اوشاکوف کے مطابق ٹرمپ نے کہا کہ یوکرین تنازع کے خاتمے کا معاہدہ اب دسترس میں ہے، اور امریکا جلد از جلد جنگ بندی کے لیے ہر ممکن کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ صدر پوتن اور ٹرمپ دونوں نے ولودیمیر زیلنسکی کی قیادت میں کیف حکومت کے طرزِ عمل پر ملتے جلتے خیالات کا اظہار کیا اور کہا کہ یورپی حمایت کے باعث جنگ طول پکڑ رہی ہے۔
کریملن کے مطابق صدر پوتن نے کہا کہ روس اپنے اہداف ہر صورت حاصل کرے گا، تاہم ماسکو مذاکراتی راستے کو ترجیح دیتا ہے، بشرطیکہ کیف مثبت ردعمل دے۔
گفتگو کے دوران صدر پوتن نے خاتون اول میلانیا ٹرمپ کی روسی اور یوکرینی بچوں کو خاندانوں سے ملانے کی کوششوں کو سراہا اور ان کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار بھی کیا۔