ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
ایران کے خلاف جنگی کارروائیوں پر اب تک امریکا کے 25 ارب ڈالرز خرچ ہو چکے ہیں، جبکہ بھاری اخراجات کے باوجود واشنگٹن اپنے اسٹریٹجک اہداف مکمل طور پر حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔ امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگسیتھ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کو بریفنگ کے دوران پنٹاگون کے مالیاتی افسر نے بتایا کہ ایران جنگ پر مجموعی طور پر 25 ارب ڈالرز خرچ کیے گئے۔ ان کے مطابق زیادہ تر رقم ہتھیاروں، میزائل نظام، عسکری کارروائیوں اور کچھ حصہ مینٹی ننس، مرمت اور آلات کی تبدیلی پر صرف ہوا۔
اس بھاری جنگی لاگت کو اس لیے بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ ٹرمپ انتظامیہ نے سال 2027 کے لیے 1.5 ٹریلین ڈالرز دفاعی بجٹ کی درخواست کر رکھی ہے۔ بجٹ میں اضافے کے دفاع میں پیٹ ہیگسیتھ نے کہا کہ انتظامیہ کا مقصد امریکی دفاعی صنعتی ڈھانچے کو ایسے نظام میں تبدیل کرنا ہے جو “جنگی بنیادوں” پر مسلسل پیداوار اور تیاری کی صلاحیت رکھتا ہو۔ کمیٹی کو یہ بھی بتایا گیا کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ میں اب تک 13 امریکی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ متعدد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق مسلسل بڑھتے اخراجات، فوجی نقصانات اور واضح سیاسی کامیابی نہ ملنے کے باعث اس جنگ پر امریکا کے اندر تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔