بھارتی ایئرلائنز نے جیٹ فیول قیمتوں پر حکومت سے مدد مانگ لی

Air India Air India

ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)

بھارت کی بڑی فضائی کمپنیوں نے بڑھتی ہوئی جیٹ فیول (ایوی ایشن ٹربائن فیول) قیمتوں کے باعث حکومت سے فوری مدد طلب کر لی ہے، خبردار کیا گیا ہے کہ موجودہ صورتحال میں ایئرلائن صنعت شدید دباؤ کا شکار ہے۔ بھارتی ایئرلائنز فیڈریشن (FIA)، جو ایئر انڈیا، انڈیگو اور اسپائس جیٹ سمیت بڑی کمپنیوں کی نمائندگی کرتی ہے، نے حکومت کو خط لکھ کر کہا ہے کہ ایئرلائن آپریشنز جاری رکھنے کے لیے ایندھن کی قیمتوں میں فوری ریلیف ضروری ہے۔ فیڈریشن کے مطابق بھارت کی فضائی صنعت اس وقت انتہائی دباؤ میں ہے اور بعض کمپنیاں بندش یا آپریشن روکنے کے دہانے پر پہنچ سکتی ہیں۔ خط میں کہا گیا کہ ایوی ایشن ٹربائن فیول کی قیمتیں غیر متوقع حد تک بڑھ رہی ہیں، جس سے ملکی اور بین الاقوامی پروازوں کے نیٹ ورک غیر منافع بخش اور غیر پائیدار ہوتے جا رہے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق حالیہ دنوں میں بھارت نے بین الاقوامی پروازوں کے لیے فیول قیمتوں میں اضافہ کیا جبکہ داخلی روٹس پر بھی معمولی اضافہ کیا گیا۔ فیڈریشن نے بتایا کہ ایندھن کے اخراجات پہلے کل آپریشنل لاگت کا 30 سے 40 فیصد ہوتے تھے، جو اب بڑھ کر 55 سے 60 فیصد تک پہنچ چکے ہیں۔ یہ مطالبہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب یہ قیاس آرائیاں جاری ہیں کہ ریاستی انتخابات کے بعد حکومت مزید قیمتیں بڑھا سکتی ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق 28 فروری سے 24 اپریل کے درمیان بھارتی ایئرلائنز کی 15 ہزار 400 سے زائد پروازیں منسوخ ہوئیں۔ اسی دوران مشرق وسطیٰ کے لیے بھارتی پروازیں بھی شدید متاثر ہوئی ہیں، جہاں پہلے روزانہ تقریباً 200 پروازیں چلتی تھیں، جو اب کم ہو کر 50 سے 55 پروازیں روزانہ رہ گئی ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر ایندھن بحران برقرار رہا تو بھارتی فضائی شعبے کو بڑے مالی خسارے اور سفری بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔