امریکا ایران کے خلاف ہائپرسونک ہتھیار استعمال کرسکتا ہے، رپورٹ

ATACMS missile ATACMS missile

ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)

امریکی سینٹرل کمانڈ نے مشرق وسطیٰ میں ڈارک ایگل ہائپرسونک میزائل تعینات کرنے کی درخواست کی ہے، تاکہ ضرورت پڑنے پر انہیں ایران کے خلاف استعمال کیا جا سکے۔ یہ دعویٰ امریکی خبر رساں ادارے بلومبرگ نے باخبر ذرائع کے حوالے سے کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اگر اس درخواست کی منظوری دی جاتی ہے تو یہ پہلا موقع ہوگا کہ امریکا اپنے ہائپرسونک میزائل کسی بیرونی جنگی محاذ پر تعینات کرے گا۔ ذرائع کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ایران نے اپنے میزائل لانچرز ایسی جگہ منتقل کر دیے ہیں جو پریسیژن اسٹرائیک میزائل کی رینج سے باہر ہیں۔ اس میزائل کی مار تقریباً 300 میل (482 کلومیٹر) بتائی جاتی ہے۔ تاہم رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران کے خلاف جاری آپریشن میں ہائپرسونک ہتھیار استعمال کرنے کے بارے میں ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

امریکا اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران کے خلاف فوجی کارروائی شروع کی تھی، جبکہ 7 اپریل کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دو ہفتوں کی جنگ بندی کا اعلان کیا تھا۔ ایرانی حکام کے مطابق 40 روزہ جنگ کے دوران امریکی اور اسرائیلی حملوں میں 3,375 افراد ہلاک ہوئے۔ بعد ازاں 11 اپریل کو ایران اور امریکا کے درمیان اسلام آباد میں کئی ادوار کے مذاکرات ہوئے، تاہم دونوں فریقوں نے تسلیم کیا کہ بعض بنیادی اختلافات کے باعث طویل المدتی معاہدہ نہ ہو سکا۔ 21 اپریل کو ٹرمپ نے جنگ بندی میں توسیع کا اعلان کیا، مگر ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق تہران امریکا کی یکطرفہ جنگ بندی کو تسلیم نہیں کرتا اور اپنے مفادات کے مطابق ردعمل دے گا۔