امریکا منجمد ایرانی اثاثے خلیجی اتحادیوں کو دینے کیلئے تیار

Dollar Dollar

ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ منجمد ایرانی اثاثوں کو خلیجی عرب ممالک میں توانائی اور دیگر بنیادی ڈھانچے کی تعمیرِ نو کے لیے استعمال کرنے پر غور کر رہی ہے، جنہیں حالیہ کشیدگی کے دوران ایرانی جوابی حملوں میں نقصان پہنچا تھا۔ رپورٹس کے مطابق اسکاٹ بیسنٹ کی سربراہی میں امریکی محکمہ خزانہ مختلف قانونی اختیارات کا جائزہ لے رہا ہے تاکہ ایرانی فنڈز کو ان ممالک میں مرمت اور بحالی کے منصوبوں کے لیے استعمال کیا جا سکے جہاں امریکی فوجی اڈے موجود ہیں۔

اطلاعات کے مطابق امریکی حکام نے خلیجی اتحادی ممالک میں ہونے والے نقصانات کا تخمینہ لگانے کی ہدایت بھی دی ہے۔ اس جائزے میں نہ صرف حالیہ تنازع بلکہ ماضی میں ایران سے منسلک گروہوں کی کارروائیوں سے ہونے والے نقصانات کو بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔ دوسری جانب ایران نے واضح کیا ہے کہ منجمد اثاثوں تک رسائی تہران اور واشنگٹن کے درمیان کسی بھی ممکنہ معاہدے کا بنیادی حصہ ہے۔ ایران کے سپریم لیڈر کے مشیر محسن رضائی نے کہا ہے کہ تقریباً 24 ارب ڈالر کے ایرانی اثاثوں کی رہائی مذاکرات میں اعتماد سازی کے لیے ضروری ہے۔ محسن رضائی نے کہا کہ “یہ ہمارا اپنا پیسہ ہے، امریکا کا نہیں”، اور اس مطالبے کو دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کا امتحان قرار دیا۔

ادھر ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا ہے کہ تہران کسی بھی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے ساتھ کم از کم 12 ارب ڈالر فوری طور پر جاری کیے جانے کا خواہاں ہے، جبکہ باقی رقم ایک یا دو ماہ کے اندر فراہم کی جانی چاہیے۔ یاد رہے کہ فروری میں ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کے آغاز کے بعد زیادہ تر فریقین نے تیل اور گیس کے بنیادی ڈھانچے کو براہِ راست نشانہ بنانے سے گریز کیا تھا، تاہم مارچ میں اسرائیل نے ساؤتھ پارس گیس فیلڈ پر حملہ کیا تھا جس سے ایران کی گیس پیداوار کا ایک حصہ متاثر ہوا۔

بعد ازاں ایران نے خبردار کیا تھا کہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت اور بحرین میں موجود وہ توانائی تنصیبات جو امریکی فوجی موجودگی سے منسلک ہیں “جائز اہداف” سمجھی جائیں گی۔ بعد میں پاکستان کی ثالثی سے جنگ بندی عمل میں آئی۔