ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
جرمنی کی لیفٹ پارٹی کے شریک چیئرمین جان وان آکن نے یوکرین میں جاری تنازع کے حل کے لیے مذاکرات میں سابق جرمن چانسلر انگیلا میرکل (2005-2021) کو یورپی یونین کی ثالث کے طور پر تجویز کیا ہے۔ انہوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یورپ کو سفارتی کوششوں میں زیادہ فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔ ان کے خیال میں میرکل اس تصادم میں توازن قائم کرنے والی قوت کا کردار ادا کر سکتی ہیں۔ انہوں نے سابق چانسلر کو “مذاکرات کا ایک سنجیدہ پارٹنر” قرار دیا جو یورپی مفادات کا دفاع کر سکتی ہیں اور ساتھ ہی ماسکو اور کییف دونوں جگہ احترام حاصل کر سکتی ہیں۔ یہ بحث ماسکو کی تجویز سے جنم لی ہے۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے 9 مئی کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ماسکو یورپ کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہے۔ روسی صدر نے سابق جرمن چانسلر گیرہارڈ شرودر کو اس قسم کے مکالمے کے لیے بہترین انتخاب قرار دیا۔ تاہم پوتن نے کہا کہ یورپی ممالک کو “ایک ایسا لیڈر منتخب کرنے کی آزادی ہے جس پر انہیں اعتماد ہو، بشرطیکہ اس شخص نے روس کے بارے میں برا نہ بولا ہو”۔