یورپی یونین کو بحیرہ روم میں روسی تیل لے جانے والے ٹینکروں کو روکنے کا اختیار

Kaja Kallas Kaja Kallas

ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)

یورپی یونین کے رکن ممالک نے بحیرہ روم میں آپریشن ایرانی (IRINI) کے تحت کام کرنے والے اپنے بحری جہازوں کو روسی تیل کی نقل و حمل کرنے والے غیر ملکی ٹینکروں کو روکنے اور انہیں حراست میں لینے کا اختیار دے دیا ہے۔ یہ اقدام برسلز کی جانب سے “شیڈو فلیٹ” (Shadow Fleet) کے خلاف اٹھایا گیا ہے۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کاجا کالاس نے یورپی یونین کے دفاعی وزراء کے غیر رسمی اجلاس میں پہنچتے ہوئے یہ اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ آپریشن ایرانی کے قواعد میں تبدیلی کر دی گئی ہے اور اب جہازوں کو بورڈنگ کرنے کی کارروائی بھی شروع کر دی گئی ہے۔ مختلف یورپی ممالک ان جہازوں کے ساتھ جو طریقہ کار اپناتے تھے اسے بہتر بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ کاجا کالاس نے زور دے کر کہا کہ اس اقدام کا بنیادی مقصد روس کو یوکرین میں اپنے فوجی آپریشن کی فنڈنگ روکنا ہے۔ آپریشن ایرانی کو یورپی یونین نے سن 2020 میں بحیرہ روم میں شروع کیا تھا تاکہ لائبیا کو غیر قانونی ہتھیاروں کی ترسیل روکی جا سکے۔ تاہم رپورٹ کے مطابق یہ آپریشن اپنے اصل مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکا۔