ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری جنگ کی کوریج کے حوالے سے بعض میڈیا اداروں کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ان پر غداری کے مقدمات چلانے کی دھمکی دے دی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ کچھ میڈیا ادارے جان بوجھ کر ایران کے ساتھ ملی بھگت کر کے ایسی معلومات پھیلا رہے ہیں جن سے واشنگٹن کی مبینہ کامیابی پر شکوک پیدا کیے جا رہے ہیں۔ اتوار کے روز سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری ایک طویل بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ نام نہاد جعلی خبریں پھیلانے والے ادارے ایران کی تیار کردہ معلومات کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ ان کے مطابق یہ معلومات مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کی گئی ہیں اور انہیں عالمی میڈیا میں پھیلایا جا رہا ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ ایران شدید دباؤ میں ہے اور اس کی واحد کامیابیاں وہ ہیں جو مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کی گئی ویڈیوز اور مواد کے ذریعے دکھائی جا رہی ہیں، جنہیں بعض میڈیا ادارے پھیلا رہے ہیں۔
امریکی صدر کے مطابق تہران نے مبینہ طور پر ایسی جعلی ویڈیوز اور تصاویر جاری کی ہیں جن میں امریکی فوجی اثاثوں پر حملے دکھائے گئے ہیں، جن میں فضائی ایندھن بردار طیاروں اور بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کے دعوے شامل ہیں۔ ٹرمپ نے کہا کہ ان میں سے بعض تصاویر میں مبینہ خودکش کشتیوں اور امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہام لنکن کو آگ میں جلتا ہوا دکھایا گیا ہے، جسے انہوں نے مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ پروپیگنڈا قرار دیا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کی جانب سے دکھائے گئے حملوں کے برعکس حقیقت میں صرف ایک امریکی طیارہ متاثر ہوا ہے جو 28 فروری کو تنازع کے آغاز کے بعد سے سروس سے باہر ہے۔
ٹرمپ نے ان خبروں کو شائع کرنے والے اداروں کو بدعنوان اور غیر محب وطن قرار دیتے ہوئے کہا کہ جو میڈیا ادارے جان بوجھ کر جعلی معلومات پھیلا رہے ہیں انہیں غداری کے الزامات کا سامنا کرنا چاہیے کیونکہ وہ غلط معلومات کی اشاعت میں ملوث ہیں۔
یاد رہے کہ امریکہ اور اسرائیل نے فروری کے آخر میں ایران کے خلاف مشترکہ فوجی حملے شروع کیے تھے جس کے بعد ایران نے خطے میں مختلف مقامات پر جوابی کارروائیاں کیں۔
دوسری جانب بعض رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس تنازع کے دوران دس سے زائد امریکی طیارے نقصان کا شکار ہوئے یا تباہ ہوئے۔ ان میں سعودی عرب میں ایندھن بردار طیاروں کو پہنچنے والا نقصان، مبینہ طور پر دوستانہ فائرنگ سے تباہ ہونے والے لڑاکا طیارے، متعدد ڈرونز کی تباہی اور عراق میں ایک ایندھن بردار طیارے کے حادثے سمیت خطے میں امریکی فوجی اڈوں کو پہنچنے والا نقصان شامل ہے۔