خواتین کے جگر میں 45 سال کے بعد چربی بڑھنے کا خطرہ، ماہرین کا اہم انتباہ

Fatty liver Fatty liver

اسلام آباد (صداۓ روس)

ماہرین امراضِ نسواں نے انکشاف کیا ہے کہ خواتین میں 45 سال کی عمر کے بعد جگر میں چربی تیزی سے جمع ہونے لگتی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس کی بنیادی وجہ تولیدی عمر (مینوپاز) کے خاتمے کے بعد ایسٹروجن ہارمون کی سطح میں نمایاں کمی ہے۔ ایسٹروجن کی کمی سے جسم میں چربی کی تقسیم بدل جاتی ہے۔ کولہوں اور رانوں میں جمع ہونے والی چربی اب پیٹ اور اندرونی اعضا (خاص طور پر جگر) کے گرد جمع ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ یہ تبدیلی انسولین ریزسٹنس کو بڑھاتی ہے، جس کے نتیجے میں جگر میں چربی (فیٹی لیور) تیزی سے جمع ہوتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ابتدائی مراحل میں فیٹی لیور بالکل خاموش رہتا ہے اور وزن میں بھی کوئی نمایاں اضافہ نظر نہیں آتا، اسی وجہ سے زیادہ تر خواتین بروقت تشخیص نہیں کر پاتیں۔ تاہم اگر اسے نظر انداز کیا جائے تو ذیابیطس، دل کی بیماریاں اور فالج کا خطرہ بہت بڑھ جاتا ہے۔ ماہرین نے خواتین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ متوازن اور پروٹین سے بھرپور غذا کھائیں، باقاعدہ ورزش کریں، وزن پر قابو رکھیں، اچھی نیند لیں اور ذہنی سکون کا خیال رکھیں۔ اس کے ساتھ ساتھ باقاعدہ طبی اسکریننگ (خاص طور پر الٹراساؤنڈ اور لیور فنکشن ٹیسٹ) بھی ضروری ہے تاکہ بروقت تشخیص اور علاج ممکن ہو سکے۔