سری لنکا نے روس سے تیل کی خریداری کا معاہدہ کرلیا

petrol pump in Sri Lanka petrol pump in Sri Lanka

ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)

سری لنکا کے ٹرانسپورٹ وزیر رتھنایکے نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ تنازع کی وجہ سے پیدا ہونے والے توانائی بحران کے پیش نظر سری لنکا روس سے خام تیل خریدنے جا رہا ہے۔ وزیر نے پیر کو روسی خبر رساں ادارے TASS سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ “توانائی ہماری آج کی ترجیح ہے”۔ انہوں نے بتایا کہ امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ نے سری لنکا کو تیل کی سپلائی میں خلل پیدا کر دیا ہے۔
رتھنایکے نے کہا کہ “روس کے ڈپٹی انرجی منسٹر انڈری رودینکو چند روز قبل سری لنکا آئے تھے۔ ڈپٹی فارن منسٹر بھی آئے۔ دونوں ممالک کے درمیان تیل کی سپلائی پر معاہدہ ہو گیا ہے۔” ان کے مطابق روس سے پہلی کھیپ اپریل کے وسط میں متوقع ہے۔
وزیر نے مزید بتایا کہ “کمپنی سطح پر تکنیکی کام جاری ہے اور مالیاتی معاملات پر بات چیت ہو رہی ہے۔ البتہ سیاسی سطح پر تقریباً سب کچھ طے ہو چکا ہے۔”
رتھنایکے نے کہا کہ اگرچہ سری لنکا روس کو چائے برآمد کرتا ہے، تاہم خام تیل کی درآمد کے لیے ایک اچھا لاجسٹک نظام ضروری ہے۔
سیلون پیٹرولیم کارپوریشن (Ceypetco) کے اعلیٰ عہدیدار میورا نیتھکوماراگے نے بتایا کہ جزیرہ نما ملک میں صرف دو جگہوں پر تیل اتارا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپریل اور مئی کی فیول شپمنٹس محفوظ کر لی گئی ہیں اور جون میں قیمتوں میں معمولی کمی آ سکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق سری لنکا اپنا زیادہ تر خام تیل متحدہ عرب امارات سے حاصل کرتا ہے جبکہ ریفائنڈ پٹرولیم مصنوعات انڈیا اور سنگاپور سے درآمد کرتا ہے۔ مارچ میں سری لنکا کو انڈیا سے 38 ہزار ٹن فیول ملا۔
اس توانائی بحران کے پیش نظر کولمبو نے فیول کی قیمتیں بڑھا دی ہیں اور راشننگ بھی نافذ کر دی ہے۔