ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
نائجیریا کی Dangote Refinery نے اعلان کیا ہے کہ وہ افریقی منڈیوں کے لیے ایندھن اور کھاد کی برآمدات میں تیزی لا رہی ہے، کیونکہ US-Israeli war on Iran سے جڑے سپلائی بحران نے پورے براعظم میں دستیابی کو محدود اور درآمدی اخراجات کو بڑھا دیا ہے۔ افریقہ کی سب سے بڑی ریفائنری اس وقت اپنی مکمل پیداواری صلاحیت 6 لاکھ 50 ہزار بیرل یومیہ پر کام کر رہی ہے اور اب تک براعظم کے مختلف ممالک کو پیٹرول کی 17 کھیپیں روانہ کر چکی ہے۔ ریفائنری کے مالک Aliko Dangote نے پیر کے روز بتایا کہ کھاد (یوریا) کی برآمدات میں بھی اضافہ کیا گیا ہے کیونکہ خریدار متبادل سپلائی کی تلاش میں ہیں۔ لاگوس کے قریب واقع وسیع صنعتی کمپلیکس کے دورے کے دوران انہوں نے کہا کہ نائجیریا سمیت مغربی، وسطی اور مشرقی افریقہ کی ضروریات پوری کرنے کی مکمل صلاحیت موجود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کھاد کی ترسیل اب ان افریقی منڈیوں کی طرف بھی کی جا رہی ہے جو پہلے ترجیح میں شامل نہیں تھیں۔ ریفائنری سالانہ 30 لاکھ میٹرک ٹن یوریا پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، جس کا بڑا حصہ عموماً امریکہ اور جنوبی امریکہ کو برآمد کیا جاتا رہا ہے۔
دوسری جانب تیل سے مالا مال نائجیریا میں ایندھن کی قیمتیں ریکارڈ سطح تک پہنچ گئی ہیں، کیونکہ زیادہ سے زیادہ پیداوار بھی خام تیل کی بلند قیمتوں کے اثرات کو مکمل طور پر کم نہیں کر پا رہی۔ ڈانگوٹے نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ خام تیل کی مزید کھیپیں مقامی کرنسی میں فراہم کی جائیں تاکہ لاگت کم ہو سکے۔ اس حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ریاستی تیل کمپنی NNPC نے مئی کے لیے ریفائنری کو فراہم کی جانے والی کھیپوں میں اضافہ کیا ہے۔ کمپنی نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ وہ اپنی رسائی کو افریقہ سے باہر بڑھاتے ہوئے یورپ، خصوصاً Netherlands کو بھی ایندھن برآمد کرنے کے لیے تیار ہے۔ یہ برآمدی حکمت عملی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرق وسطیٰ کی کشیدگی کے باعث Strait of Hormuz کے ذریعے جہاز رانی متاثر ہو رہی ہے، جو عالمی تجارت کے لیے نہایت اہم راستہ ہے۔ African Union، UN Economic Commission for Africa اور World Bank کی مشترکہ رپورٹ کے مطابق یہ تنازع افریقہ میں ایندھن اور خوراک کی قیمتوں میں اضافے، ٹرانسپورٹ اخراجات میں بڑھوتری اور کمزور معیشتوں پر دباؤ کے باعث ایک بڑے معاشی بحران میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ منگل کے روز Afreximbank نے اعلان کیا کہ اس نے 10 ارب ڈالر کے ’گلف کرائسس رسپانس پروگرام‘ کی منظوری دے دی ہے، جس کا مقصد افریقی اور کیریبین ممالک، بینکوں اور کمپنیوں کو اس بحران کے معاشی اثرات سے نمٹنے میں مدد فراہم کرنا ہے۔